Mashwara Zaroor Kijye
نوجوانی کے دن تھے اور 1990 کی دہائی تھی جب میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کام کر رہا تھا۔ اسپتال مقابلتاََ نیا تھا لیکن مصروف ہوتا تھا۔ سی سی یو مقابلتاََ بہتر تھا البتہ وہاں متمول اور مشہور سیاستدان آتے تھے اور اُن سے ملنے وزراءاعظم بھی آتے۔ ایک دن راؤنڈ کرتے ہوئے ایک جواں سال مریض کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہارٹ اٹیک کے بعد LAMA (Leave against Medical Advice) یعنی طبی ہدایت کے برعکس گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ دن مقابلتاََ مصروف تھا لیکن میں نے اُن سے درخواست کی کہ مجھے کچھ وقت دیجئیے اور میں آپ سے آ کر گفتگو کرتا ہوں۔ وہ صاحب مان گئے۔
کام نمٹا کر میں سکون سے اُن کے پاس جا بیٹھا اور اُن کو اُن کی بیماری سمجھائی۔ یہ بھی بتایا کہ ہارٹ اٹیک کے کیا معنی ہیں اور اُن کے لئیے اسپتال میں رہنا کتنا اہم ہے۔ میرے لئیے یہ بہت طمانیت کی بات تھی کہ کچھ اور لوگ بھی جو بات سُن رہے تھے انہوں نے بھی دباؤ ڈالا۔ میں نے فیصلہ اُن صاحب پر چھوڑ دیا اور واپس اپنے دفتر میں چلا آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اُن صاحب نے اسپتال میں رہنے اور علاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ شاید آج بھی حیات ہوں اور اپنے بچوں اور پوتوں نواسوں کے ساتھ کھیلتے ہوں اور شاید دل کے نہاں خانوں میں کہیں اُس نوجوان ڈاکٹر کی یاد بھی فروزاں ہو جس نے بہت سا وقت اُن کے ساتھ بیٹھ کر مزید علاج کی رائے دی تھی جس نے انہیں ایک مختلف فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔
انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن ایک بہت باوقار اور نیک نام طب کا ادارہ ہے۔ میرے دوسرے بیٹے نے ایم کیٹ یعنی میڈیکل کالج میں داخلے کا امتحان دیا اور اس کا بہت اچھا اسکور آیا۔ اُس کا جی پی اے بھی........
