Behtar Faisla, Acha Kal
راولپنڈی میڈیکل کالج کے ہوسٹل میں زندگی کے بہت سے خوبصورت دن دیکھے اور یہ وہی دن تھے جب ہر سنہری صبح روشن۔ ہر دوپہر تاباں، شام دلکش اور رات مہکتی ہوئی دکھائی دیتی تھی البتہ یہ ساری خوشیاں اس وقت ماند پڑ جاتیں جب میس کے کھانے پر زندگی گزارنی پڑتی۔ ہوسٹل نمبر دو کے پاس ہمارے دو دوستوں کے گھر تھے جہاں بہت آنا جانا رہتا۔ اتنا تو والدین نے سمجھا بجھا کر بھیجا تھا کہ کھانے کے وقت سے پہلے اُٹھ آنا چاہئیے اور ہم رات کے کھانے کے لئیے لیاقت باغ، کمیٹی چوک یا ایم جی ایچ (موتی گیسٹ ہاؤس) چلے جاتے لیکن اس زمانے میں مہمان کی تواضع ہر گھر کا عموم تھا۔ اُن دونوں گھروں میں شاید اندازہ ہوگیا کہ ہم کھانے کے وقت اُٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے دونوں دوستوں کی مائیں کوشش کرتیں کہ ہم کھانا ساتھ ہی کھا کر جائیں۔ اُس زمانے میں مقابلتاََ سادہ کھانے بنتے تھے لیکن عموماََ شامی کباب فریز کرکے رکھ لئیے جاتے اور مہمان کے آنے پر فٹافٹ تیار ہو جاتے۔
ایسی کئی شامیں یاد ہیں اور آج جب دونوں دوستوں کی مائیں اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ چُکی ہیں۔ اُن کی نیکیاں فروزاں ہیں اور جب یاد آتی ہیں تو دعائے مغفرت نوک زبان پر آ جاتی ہے لیکن آج میں آپ کو بحثیت سینئیر ماہر نفسیات اور ڈاکٹر کے کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ ایک اور نہج دکھانا چاہتا ہوں کہ وہ صرف کھانا ہی نہیں تھا بلکہ یہی وہ چھوٹی سی بے لوث مدد، بے ریا انسانی محبت اور معاشرتی دوا تھی جس پر ہم نے اپنی زندگیاں........
