menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bachon Ki Parwarish

44 0
04.09.2026

پچھلے دو ھفتوں میں آپ نے انسانی زندگی کے مختلف ادوار کا پڑھا۔ آئیے اس کو سمیٹ لپیٹ دیں۔ آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ میں یعنی کوئی بھی ساٹھ پینسٹھ سال کا پختہ کار انسان بہتری کی کوشش کیسے کرتا ہے۔ آج اس عمر میں، میں کئی مرتبہ ٹھہر کر اپنے آپ سے پوچھتا ہوں، کیا اس معاملے میں کوئی نیکی ہے؟ کل میں ایک بیٹا تھا، ایک بھائی تھا، ایک بھانجا یا بھتیجا تھا، رشتے کا بھائی، ہمسایہ اور شوہر اور ہاں ایک باپ، نسبی اور صہری رشتے اور ایک سسر اور اب ایک دادا ہوں۔

اس عمر میں اپنے والدین یاد آتے ہیں اور کچھ دن ایسے آئے جب زندگی اور نصیب کے ہاتھوں بہت کچھ سمٹ گیا۔ پاپا مرحوم کی ایک بات ہمیشہ یاد رہی کہ کبھی منہ سے ناشکری کے لفظ نہیں نکلے۔ ریٹائر ہوئے اور جو بھی بچا تھا وہ سمیٹ کر بیٹھ گئے۔ اچھے وقتوں کی یاد تو آتی ہوگی لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ میں کتنا بڑا افسر تھا۔ میری اماں مرحومہ کبھی کبھار اچھے وقتوں کو یاد کرتیں لیکن ایک مرتبہ ہمارے ایک ہمسائے نے ہمارے بارے میں اور ہماری کم مائیگی کے ذکر میں کچھ تلخ الفاظ استعمال کئیے۔ امبر نے کچھ شکوہ کیا تو کہنے لگیں کہ بیٹا مقدر اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں........

© Daily Urdu (Blogs)