Aaiye Kuch Ikhtitam Ki Baat Karen
آئیے آج کچھ اختتام کی بات کریں
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستانِ عشق! اب ختمِ عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
میں نے بہت سالوں تک لوگوں کو آخری غسل دیا، کفن پہنایا اور جنازہ پڑھا کر دفن کیا۔ سالوں پہلے ایک دن جمعہ پڑھا رہا تھا اور ایک انتہائی عمر رسیدہ مسلمان آخری کرسیوں پر بیٹھے دکھائی دئیے۔ وہی آخری دن تھا جب اُن کو زندہ دیکھا۔ غالباََ اگلے ایک یا دو جمعوں سے پہلے ہی ایک مسلمان کی فوتیدگی کی خبر آئی جن کو کفن دفن کی ضرورت تھی۔ فوراََ پہنچے اور جب اُن کو دیکھا تو وہی صاحب تھے۔ نہ صرف بے اولاد تھے بلکہ اُن کی اہلیہ غیر مسلم تھیں۔ غسل دے کر اور کفنا کر دفن کرنے کے بارے میں پُوچھا تو معلوم ہوا کہ ہمیں جنازہ پڑھا کر واپس چلے جانا چاہئیے۔ ہم صرف چار مسلمان تھے۔ قبلہ رُو ہوئے اور نیت باندھ لی اور بس جنازہ پڑھا کر چلے گئے۔
میرا نہیں خیال کہ کوئی اور اُن کے دفن کے متعلق کچھ جانتا تھا۔ شکل و صورت سے ہی دکھائی دیتا تھا کہ نوجوانی میں ضرور انتہائی خوش شکل آدمی رہے ہوں گے۔ ماں نے ساری رات دودھ بھی پلایا ہوگا اور کسی باپ کے کاندھے پر بھی لاڈ سے جھولے لئیے ہوں گے۔ امریکہ کو خواب مکمل کرنے کی سرزمین کہا جاتا ہے، ضرور نوجوانی میں کسی خواب کا پیچھا کرتے ہوئے امریکہ آئے ہوں گے۔ کتنی ہی پری جمالوں کے دل اُن کو دیکھ کر دھڑکے ہوں گے۔ بالآخر کسی مہ لقاء کی زلف کے اسیر ہوئے۔ ایک مکمل زندگی گزاری۔ گھر بنایا اور شاید اولاد........
