Tufan e Nooh: Aik Global Reset |
طوفانِ نوحؑ: ایک گلوبل ری سیٹ
1۔ دنیا بھر کے "آثارِ قدیمہ" (پرانی تہذیبوں کے نشانات) کے ماہرین اور بالخصوص مسیحی محققین دہائیوں سے کوہِ ارارات کی برفانی چوٹیوں پر لکڑی کا ایک ایسا ڈھانچہ تلاش کر رہے ہیں جسے وہ "کشتیِ نوح" ثابت کر سکیں۔ ان کی تمام تر تگ و دو بائبل کی فراہم کردہ اس "ٹائم لائن" (زمینی ترتیب) کے گرد گھومتی ہے جو اس عظیم واقعے کو محض چھ سے آٹھ ہزار سال قدیم بتاتی ہے۔ لیکن یہاں ایک ہولناک سائنسی تضاد کھڑا ہوتا ہے کہ "ارضیات" (زمین کی بناوٹ کا علم) کا کوئی بھی ریکارڈ گزشتہ دس ہزار سال میں کسی ایسے طوفان کی گواہی نہیں دیتا جس نے سترہ ہزار فٹ بلند پہاڑوں کو ڈبو دیا ہو۔ اگر ہم مسیحی "ٹائم لائن" (زمینی ترتیب) کو مان لیں تو ہمیں سائنس کا انکار کرنا پڑے گا اور اگر سائنس کو مانیں تو بائبل کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
2۔ آج ہمیں اس مروجہ تاریخ کو چیلنج کرنا ہوگا اور سائنس کو یہ باور کرانا ہوگا کہ وہ لکڑی کے تختے ڈھونڈنا چھوڑ دے۔ یہ واقعہ محض ایک مقامی سیلاب نہیں بلکہ زمین کا "گریٹ ری سیٹ" (عظیم عالمی بحالی) تھا جو آج سے تقریباً پچاس لاکھ سال پہلے پیش آیا۔ یہ وہ دور تھا جب زمین کے تمام "براعظم" (خشکی کے بڑے ٹکڑے) ایک دوسرے کے قریب تھے اور انسانیت اپنی دوسری پیدائش کے دہانے پر کھڑی تھی۔
3۔ قرآنِ کریم اس طوفان کے ہولناک آغاز کو ایک منفرد اصطلاح "وفار التنور" (اور تنور ابل پڑا) سے بیان کرتا ہے۔ عام قاری اسے روٹی پکانے والا تنور سمجھتا ہے، لیکن سائنسی و ارضیاتی نقطہ نظر سے یہ اس شدید "ہائیڈرولک پریشر" (پانی کے اندرونی دباؤ) کی علامت تھی جب سمندروں کے غیر معمولی دباؤ نے زمین کے اندرونی "آبی ذخائر" (زمین کے نیچے پانی کے ٹینک) کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔........