Quran Aur Dinosaurs
ایک ملحد نے مسلمان شیف سے طنزاً پوچھا: "اگر قرآن میں ہر چیز ہے، تو کیا اس میں کوکنگ ریسیپی (کھانا پکانے کی ترکیب) بھی ہے؟" اس ماہرِ باورچی نے نہایت حکمت سے جواب دیا: "بالکل ہے! اللہ فرماتا ہے: فَاسُأَلُوا أَهُلَ الذِّكُرِ إِن كُنتُمُ لَا تَعُلَمُونَ (پس تم اہلِ علم سے پوچھ لو اگر تم خود نہیں جانتے - سورۃ النحل: 43)۔ چونکہ میں اس علم کا ماہر ہوں، اس لیے قرآن نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے"۔
یہی اصول صحابہ کرامؓ کا تھا جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر غیر مسلموں سے وہ علوم سیکھے جو ان کے پاس نہیں تھے۔ (حوالہ: السيرة النبوية لابن هشام، سنن ابی داؤد: 3645)۔ آج کا ملحد کہتا ہے کہ قرآن میں "ڈائنا سور" کا لفظ کیوں نہیں؟ یہ اعتراض لسانیاتی ارتقاء سے لاعلمی کی دلیل ہے۔ نام تو انسانوں کی ایجاد ہیں، اسی لیے کلامِ الٰہی نے اس علمی گتھی کو ایک ابدی اور آفاقی ضابطے سے سلجھایا:
1۔ "مَا لَا تَعُلَمُونَ" – وہ جو تم ابھی نہیں جانتے!
قرآنِ کریم نے 1400 سال پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کائنات میں ایسی مخلوقات اور سواریاں موجود ہیں جن کا علم اس وقت کے انسان کے پاس نہیں........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin