Kya Tareekh Sadiq o Amin Ke Baghair Badal Sakti Thi? |
کائنات اور انسانی زندگی کے بارے میں اٹھنے والا پہلا سوال "کیوں؟" تھا۔ اسی تجسس سے فلسفہ پیدا ہوا، جسے تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔ فلسفے ہی کی ایک اہم اور بنیادی شاخ ایپسٹومولوجی (Epistemology) ہے، جو یہ طے کرتی ہے کہ "علم" کی حقیقت کیا ہے اور معلومات کی سچائی کو جانچنے کا معیار کیا ہے؟
اسے ایک عصری مثال سے یوں سمجھیں کہ اگر ناسا (NASA) کا کوئی سائنسدان آ کر یہ دعویٰ کرے کہ "ہم نے مریخ پر پانی کے آثار دیکھے ہیں"، تو پوری دنیا اسے سچ تسلیم کر لیتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے نہیں کہ سب نے مریخ کا مشاہدہ کر لیا ہے، بلکہ اس لیے کہ ناسا کی برسوں پر محیط تحقیق اور ان کی "سچائی کی ساکھ" (Credibility) موجود ہے۔ جب مخبر (خبر دینے والا) سچا ہو، تو اس کی خبر "علمِ یقینی" بن جاتی ہے۔
مغربی مصنف رابرٹ اسپینسر نے اپنی کتاب میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول کریمﷺ کا کوئی تاریخی وجود ہی نہیں تھا اور قرآنِ کریم محض اموی دور کی ایک سیاسی چال تھی۔ ایپسٹومولوجی کے اصول کے مطابق ہر اثر (Effect) کے پیچھے ایک وجہ (Cause) ہونا لازم ہے۔ سائنسی طور پر یہ ناممکن ہے کہ "عدم سے وجود" پیدا ہو جائے۔ اگر بانیِ اسلام کی طاقتور شخصیت اور ان کی سیرت کا وجود نہ ہوتا، تو وہ کون سا محرک تھا جس نے اجڈ اور ضدی بدوؤں کی کایا پلٹ کر انہیں ایک عظیم تہذیب کا بانی بنا........