menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Imam Bukhari Ka Kaam Insani Aqal Se Bahir Hai?

44 0
19.03.2026

کیا امام بخاریؒ کا کام انسانی عقل سے باہر ہے؟‎

جس قوم کا ایک عام بوڑھا (مومن) ساٹھ سال کی عمر تک صرف رمضان کے ماہ میں 60 ہزار سجدے کر لیتا ہے، اس قوم کے "جدید دانشور" امام بخاریؒ کے 30 ہزار سجدوں پر کیوں سیخ پا ہیں؟ عقل اور حساب کا وہ موازنہ جو اعتراض کرنے والوں کی علمی یتیمی اور ایمانی کمزوری کو بے نقاب کر دے گا۔

امام بخاری رحمہ اللہ کی کل عمر 62 سال (194ھ تا 256ھ) تھی۔ آپ نے محض 16 سال کی عمر میں حجازِ مقدس کے اسفار شروع کیے اور اسی کم عمری میں "صحیح بخاری" کی تدوین کا بیڑہ اٹھایا۔ زندگی کے 16 قیمتی سال (تقریباً 32 سال کی عمر سے 48 سال کی عمر تک) آپ نے اس کتاب کی ترتیب و تدوین میں صرف کیے۔ یہ وہ دور تھا جب آپ کی جسمانی قوت اور یادداشت اپنے عروج پر تھی۔

آج کل سوشل میڈیا پر کچھ حلقوں کی جانب سے ان 16 سالہ علمی مشقت پر یہ کہہ کر اعتراض کیا جاتا ہے کہ: "ہزاروں میل کے اسفار کے ساتھ 7 ہزار سے زائد احادیث پر نوافل کی ادائیگی کیسے ممکن ہے؟" آئیے، اس پروپیگنڈے کا جواب ریاضی، سنتِ نبویﷺ اور ایک عام مسلمان کے معمول کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

1۔ سجدوں کا موازنہ: امام بخاریؒ بمقابلہ ایک عام مومن

ہم سب کے اردگرد ایسے بزرگ موجود ہیں جو پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے یہ حساب لگائیے:

ایک عام مسلمان کی تراویح: اگر ایک شخص اپنی 62........

© Daily Urdu (Blogs)