menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Hum Waqai Riyasat e Madina Chahte Hain?

18 1
26.01.2026

آج کا دور "فین فالوونگ" (Fan Following) کا جنون ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری منزلیں کہیں اور بھٹک رہی ہیں۔ ہم ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے اداکاروں کے سٹائل کاپی کرتے ہیں، فٹ بالرز کے ہیئر سٹائل کی نقل اتارنے کو "کول" (Cool) ہونا سمجھتے ہیں اور مغرب کے ان ستاروں کے پیچھے دیوانے ہیں جنہیں ہماری اقدار کی خبر تک نہیں۔ ہماری چال ڈھال، لباس اور رویوں میں تو مغرب کی غلامی رچی بسی ہے، مگر نعرہ ہم "ریاستِ مدینہ" اور "نظامِ مصطفیٰ ﷺ" کا لگاتے ہیں۔

کیا کبھی سوچا کہ وہ ریاستِ مدینہ جس کی ہم تمنا کرتے ہیں، وہ کن لوگوں نے بنائی تھی؟ وہ ریاست ان جری جوانوں نے بنائی تھی جن کے "سپر سٹار" صرف اور صرف رسولِ کریم ﷺ تھے۔ وہ کسی مغربی کھلاڑی یا اداکار کے مداح نہیں تھے، بلکہ وہ آقا ﷺ کی ہر ہر ادا کے شیدائی تھے۔ وہاں "کیوں" اور "کیسے" کی گنجائش نہیں تھی، وہاں صرف "اتباع" اور "سرِ تسلیمِ خم" تھا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اصل ریاستِ مدینہ قائم کرنے والے ان سچے "عاشقوں" نے کس طرح آقا ﷺ کے وصال کے بعد بھی ان کی اداؤں کو اپنی روح میں گھول لیا تھا:

عشق و اتباع کے 15 تاریخی واقعات

حضرت عمرؓ اور قمیص کی کٹائی حدیث: حضرت عمرؓ نے ایک نئی قمیص پہنی جس کے آستین ہاتھ سے بڑھ رہے تھے، آپ نے چھری منگوائی اور انہیں کاٹ دیا۔ (حلیۃ الاولیاء) تشریح: اس وقت عمر فاروقؓ 23 لاکھ مربع میل کے حکمران تھے، روم و فارس جن کی ایک جھلک دیکھنے کو تڑپتے تھے، مگر اس فاتحِ عالم نے (مغرب کے فیشن) کے بجائے آقا ﷺ کی سادہ ادا کو چھری سے کاٹ کر اپنا لیا۔

حضرت عمرؓ اور حضرت عباسؓ کا پرنالہ حدیث: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میری پشت پر چڑھیں اور پرنالہ وہیں لگائیں جہاں نبی کریم ﷺ نے لگوایا تھا"۔ (مسند احمد: 1787) تشریح: یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ سنت کی بحالی کے لیے اگر وقت کے عظیم ترین حکمران کو اپنی........

© Daily Urdu (Blogs)