100wa Bandar |
انسانی تاریخ اور معاشرتی رویوں کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ کسی بڑے ہجوم سے نہیں بلکہ ایک خاموش انفرادی عمل سے شروع ہوتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے "سویں بندر کا اثر" (100th Monkey Effect) ایک ایسی تمثیل ہے جو ہمیں انفرادی عمل کی پوشیدہ طاقت سے روشناس کرواتی ہے۔
اس نظریے کی بنیاد 1950 کی دہائی میں جاپان کے جزیرے کوشیما میں بندروں پر کیے گئے ایک طویل مشاہداتی مطالعے پر رکھی گئی، جہاں ماہرین نے دیکھا کہ "ایمو" نامی ایک نوجوان مادہ بندر نے آلوؤں کو کھانے سے پہلے سمندر کے پانی میں دھونا شروع کیا تاکہ وہ ریت سے پاک اور ذائقے میں بہتر ہو جائیں۔ یہ ایک چھوٹی سی انفرادی دریافت تھی، جو آہستہ آہستہ اس کے قریبی گروہ میں پھیل گئی۔
دلچسپ موڑ تب آیا جب اس نئے ہنر کو سیکھنے والے بندروں کی تعداد ایک مخصوص حد، جسے "سویں بندر" کا نام دیا گیا، تک جا پہنچی۔ مشاہدہ کیا گیا کہ جیسے ہی جزیرے پر سیکھنے والوں کا یہ تناسب ایک خاص حد یا "تھرش ہولڈ" (آغازِ اثر کی دہلیز) کو چھو گیا، تو اس جزیرے سے میلوں دور دوسرے جزیروں پر مقیم بندروں نے بھی، جن کا کوشیما کے بندروں سے کوئی جسمانی رابطہ نہ تھا، خود بخود آلو دھونا شروع کر دیے۔ یہ واقعہ اس نظریے کی بنیاد بنا کہ جب کسی گروہ میں ایک خاص سطح تک شعور بیدار ہو جاتا ہے، تو وہ معلومات کسی........