Aalu Powder, Wodka, Poultry Feed, Silage Aur Value Addition

پاکستان میں اس وقت آلو اس قدر سستا ہو چکا ہے کہ بعض علاقوں میں کسان اسے کھیت سے اٹھا کر منڈی لے جانے کی زحمت بھی نہیں کر رھا۔ کہیں آلو سڑکوں کے کنارے ڈھیر لگے ھیں، کہیں جانوروں کو کھلائے جا رھے ھیں اور کہیں مٹی میں دوبارہ دبا دئیے گئے ھیں تاکہ بدبو سے بچا جا سکے۔ ایک طرف صارف کو سستا آلو مل رھا ہے تو دوسری طرف کسان کی پوری فصل خسارے میں جا رھی ہے۔ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، مزدوری اور پانی پر آنے والی لاگت پوری ھونے کے بجائے الٹا قرض بڑھتا جا رھا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جسے ہم ہر سال کسی نہ کسی فصل کے ساتھ دہراتے ھیں۔ کبھی پیاز، کبھی ٹماٹر، کبھی گندم اور اب آلو۔ پیداوار زیادہ ھو تو قیمت زمین بوس، پیداوار کم ھو تو عوام روتے ھیں مگر کسی مرحلے پر ریاستی سطح پر کوئی مربوط حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔

اصل مسئلہ آلو کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ پاکستان دنیا کے بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے مگر ہمارے پاس نہ مناسب کولڈ اسٹوریج ھیں، نہ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کا جال اور نہ ھی ایکسپورٹ کے مؤثر چینلز۔ کسان کو آلو اگانے کی ترغیب تو دی جاتی ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب آلو منڈی میں آئے گا تو خریدار کون ھوگا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فصل تیار ہوتے ھی مارکیٹ میں سیلاب آ جاتا ہے، طلب محدود ھوتی ہے اور قیمت گر جاتی ہے۔

سب سے پہلا اور بنیادی حل کولڈ اسٹوریج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں آلو کو چھ سے نو ماہ تک محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ مارکیٹ میں سپلائی بتدریج آئے۔ پاکستان میں بیشتر کولڈ اسٹوریج یا تو ناکافی ھیں یا بہت مہنگے۔ دیہی سطح پر چھوٹے، سولر سے چلنے والے کولڈ یونٹس لگائے جا سکتے ھیں جن میں کسان اپنی فصل اجتماعی طور پر محفوظ رکھ سکے۔ اس سے کسان فوری فروخت پر مجبور نہیں ہوگا اور قیمت بہتر ہونے پر آلو مارکیٹ میں لا سکے گا۔

دوسرا بڑا حل ویلیو ایڈیشن ہے۔ دنیا میں آلو صرف سبزی نہیں بلکہ ایک مکمل صنعت ہے۔ چپس، فرنچ فرائز، ڈی ہائیڈریٹڈ آلو، آلو پاؤڈر، آلو فلیکس، آلو کے نشاستے سے بننے والی اشیاء، حتیٰ کہ جانوروں کی فیڈ بھی آلو سے تیار ھوتی ہے۔ مرغیوں کی خوراک میں بھی آلو استعمال ھو سکتا ہے پاکستان میں اگر ہر بڑے آلو پیدا کرنے والے ضلع میں ایک چھوٹی یا درمیانی سطح کی چپس فیکٹری قائم ھو جائے تو ہزاروں ٹن آلو ضائع ھونے سے بچ سکتا ہے۔ یہ فیکٹریاں کسان سے براہِ راست خریداری کریں، طے شدہ کم از کم قیمت پر، تاکہ کسان کو معلوم ھو کہ اس کی فصل کا خریدار موجود ہے۔

آلو کو خشک کرنے اور آلو پاؤڈر بنانے کا عمل انتہائی سادہ مگر مؤثر ہے۔ گھریلو سطح پر بھی آلو کو دھو کر، چھیل کر، باریک سلائس کرکے دھوپ یا کم درجہ حرارت والے ڈرائر میں خشک کیا جا سکتا ہے۔ صنعتی سطح پر آلو کو پہلے بلانچ........

© Daily Urdu (Blogs)