Wali Ullah (9) |
لیکن اگر خدا کو مانے بغیر دنیا ترقی کرسکتی ہے ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے تو پھر خدا کا جھنجٹ کیوں پالا جائے، شرجیل بولا۔ میں نے کہا یہ بات درست ہے کہ انسان خدا کو مانے بغیر بھی ریاست قائم کر سکتا ہے، قانون لکھ سکتا ہے اور معاشی خوشحالی حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن اس حقیقت کا انکار نہیں کرتا دنیا کی کامیابی بعض اوقات ان لوگوں کو بھی مل جاتی ہے جو خدا کو نہیں مانتے جیسے سورہ ہود کی آیت 15 یعنی جو صرف دنیا چاہتے ہیں، انہیں دنیا مل جاتی ہے۔ مگر یہاں اصل سوال ترقی کا نہیں، مقصد کا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے مطابق دہریت انسان کو یہ تو بتا دیتی ہے کہ کیسے جینا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کیوں جینا ہے۔ قرآن اسی "کیوں " کا جواب دیتا ہے: ﴿أَفَحَسِبُتُمُ أَنَّمَا خَلَقُنَاكُمُ عَبَثًا﴾ (المؤمنون: 115)کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے؟
قرآن کے نزدیک دنیا کی ترقی خود مقصد نہیں بلکہ امتحان کا حصہ ہے: ﴿الَّذِي خَلَقَ الُمَوُتَ وَالُحَيَاةَ لِيَبُلُوَكُمُ أَيُّكُمُ أَحُسَنُ عَمَلًا﴾(الملک: 2) اگر ترقی ہی حق و باطل کا معیار ہوتی تو فرعون، نمرود اور قارون سب سے زیادہ حق پر ہوتے، کیونکہ ان کے پاس طاقت، نظم اور دولت تھی۔ تو اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنی سہولت ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کس کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے۔ بغیر خدا کے نظام میں قانون طاقتور بناتا ہے اور طاقتور جب چاہے قانون بدل دیتا ہے۔ قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: ﴿أَرَأَيُتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ﴾۔ (الجاثیہ: 23) جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں ترقی کے باوجود جنگیں، استحصال اور عالمی ناانصافی ختم نہیں ہو سکیں۔
یورپ کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں خدا کے بغیر جنت بن گئی۔ لیکن قرآن کے زاویے سے دیکھا جائے تو یورپ نے خدا کو نہیں بلکہ کلیسا کی آمریت کو رد کیا تھا۔ انہوں نے عدل، مشاورت، تحقیق اور انسانی وقار کو اپنایا اور یہ سب اصول قرآن پہلے ہی بیان کر چکا تھا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأُمُرُ بِالُعَدُلِ وَالُإِحُسَانِ﴾ (النحل: 90) ﴿وَأَمُرُهُمُ شُورَىٰ بَيُنَهُمُ﴾ (الشوریٰ: 38) یورپ آج بھی اسی اخلاقی سرمائے پر ترقی کر رہا ہے، اگرچہ وہ اس کی نسبت خدا کی طرف نہیں کرتا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی شخص وراثت سے حاصل دولت پر فخر کرے مگر وراثت کے منبع کو غیر ضروری قرار دے۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر خدا غیر ضروری ہے تو اخلاق کہاں سے آیا؟
دہریہ کہتا ہے انسان خود اخلاق بنا لیتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اخلاق ہمیشہ طاقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الُحَقُّ أَهُوَاءَهُمُ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالُأَرُضُ﴾(المؤمنون: 71) جب حق خواہش کے تابع ہو جائے تو فساد لازمی ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے" (صحیح مسلم) سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کو ماننا کسی دنیاوی فائدے کا سودا نہیں بلکہ حقیقت کو ماننے کا سوال ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الُحَقُّ﴾ (الحج: 6)۔
مولانا مودودیؒ کے مفہوم کے مطابق، یہ کہنا کہ "دنیا خدا کے بغیر چل سکتی ہے، اس لیے خدا غیر ضروری ہے" ویسا ہی مغالطہ ہے جیسے کوئی کہے کہ "چونکہ میں عدالت کے بغیر بھی کچھ عرصہ گزار سکتا ہوں، اس لیے عدالت کا وجود غیر ضروری ہے"۔ قرآن اسی سوچ کو یوں رد کرتا ہے: ﴿أَيَحُسَبُ الُإِنسَانُ أَن يُتُرَكَ سُدًى﴾ (القیامہ: 36)
آخر میں قرآن وہ سوال چھوڑتا ہے جس کا دہریت کے پاس کوئی جواب نہیں: موت کے بعد کیا؟........