Wali Ullah (8)

گھر سے نکالے جانے کے بعد ہمارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ زہرہ نے میرا ہاتھ تھامے رکھا اور مجھے اپنے بھائی شرجیل کے گھر لے آئی۔ شرجیل، جو جدید سوچ رکھنے والا لبرل انسان تھا، نے ہمیں دیکھتے ہی خوشی سے خیر مقدم کیا۔ اس کی مسکراہٹ میں مہمان نوازی تھی، مگر آنکھوں میں ایک گہرا تجسس بھی تھا۔ "آؤ ضرغام بھائی، آؤ زہرہ! بڑے عرصے بعد تشریف لائے ہو"، اس نے گرمجوشی سے کہا اور فوراً ہی کھانے کا انتظام کرنے لگا۔ کھانا کھاتے وقت اس کی نظریں بار بار میرے چہرے پر ٹھہرتیں۔ شاید وہ میری داڑھی، ٹوپی اور سادہ لباس کو پرکھ رہا تھا۔ کھانا کیا کھانا تھا، میری تو بھوک ہی اڑی ہوئی تھی۔ بس بے دلی سے تھوڑا سا کھایا، میزبان کا دل رکھنے کو۔ جو کچھ آج ہوا تھا، مجھے تو خواب لگ رہا تھا۔ اسی پریشانی میں اٹھ کر میں کمرے میں آ گیا۔

زہرہ میں ضرغام کی موجودگی میں خاموش تھی۔ "مگر تم لوگوں کی حالت کچھ سمجھ سے باہر ہے، خیر تو ہے؟" آمنہ بھابھی بولیں، "آپی! ضرغام کو ان کے گھر والوں نے نکال دیا ہے" اور یہ کہتے ہی میں رونے لگی۔ شرجیل آ کر میرا بازو پکڑ کر بولا، "زہرہ، آخر وجہ کیا ہے؟" میں نے بتایا، "شرجیل، ضرغام نے درباروں، پیروں اور اپنے گھر والوں کے عقائد پر ٹوکنا شروع کر دیا تھا"۔ جو کچھ گھر میں ہوا، میں نے شرجیل کو سب بتا دیا۔ شرجیل بولا، "اوہ! اب سمجھا۔ ویسے ہے، تو جاہلیت ہے کہ لوگ اس جدید دور میں بھی درباروں پر دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ دنیا کہاں پہنچ گئی اور یہ ابھی تک کرامات ثابت کرتے پھرتے ہیں۔ لیکن کیا کہیں دھندہ ہے پر گندہ ہے۔ لیکن زہرہ، ضرغام بھی تو پورا مولوی بنا پھرتا ہے، اس نے کیا حلیہ بنا رکھا ہے"۔

میں نے کہا، "شرجیل، اسلام ہمیں سادگی سکھاتا ہے۔ پہلے میں بھی ضرغام کی وجہ سے پریشان تھی، مگر جب غور کیا، خود قرآن پڑھا تو پتہ چلا کہ اسلام تو ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے، جس کا پرچار ضرغام کرتا ہے"۔ "اچھا! تو تم بھی اس کے مشن میں شریک ہو؟ ہمم، شریک حیات جو ہو"، اس نے کہا۔ میں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ "میری جان، اچھی بات ہے، دین سمجھنا۔ تمہاری زندگی ہے، تمہیں حق ہے جیسے جیو۔ لیکن اس طرح دربدر خوار ہونا بھی تو ٹھیک نہیں۔ اب تو ضرغام کے ساتھ سڑکوں پہ ہی رہوگی، کیونکہ گھر سے تو وہ بے گھر ہیں۔ میری مانو، اسے چلتا کرو"۔

میں نے کہا، "جس کے ساتھ اچھے دن گزرے، اب مشکل میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔ شرجیل، یہ میرا نصیب ہے، میں اسی کے ساتھ خوش ہوں"۔

"ٹھیک ہے بھئی، تمہاری مرضی۔ لیکن امی، ابو، بھائی، آپی کو میں نے بتا دیا ہے کہ زہرہ اور ضرغام میرے مہمان ہیں۔ وہ کل آئیں گے۔ مجھے نہیں لگتا بابا تمہیں ضرغام کے ساتھ بھیجیں گے"۔ ہم ایک نئی مصیبت میں آ گئے تھے۔ خیر، میں چہرے کو پرسکون کرکے کمرے میں آئی تو ضرغام مصلے پر دعا مانگ رہے تھے۔

"مجھے تو لگا آپ سو گئے ہوں گے"، میں بولی۔

"منزل کے طلب گاروں کو نیند سے کیا سروکار؟"انہوں نے کہا۔ میں نے کہا، "اچھا ضرغام، آپ کی امی جان نے گھر سے نکلتے وقت اپنا سارا سونا اتار کر مجھے دے دیا تھا۔ روتے ہوئے کہا تھا: "میرے جگر کے ٹکڑے کو دے دینا"۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے کوٹ سے ایک کپڑے میں لپٹا ہوا تھیلا نکالا، جس میں چوڑیاں، انگوٹھیاں اور گلے کا ہار تھا۔ میری آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔

یہ صرف زیورات نہیں تھے، یہ ایک ماں کی ٹوٹی ہوئی آواز، اس کا خاموش رونا، اس کی بے پایاں فکر تھی، جو اس نے اپنی آخری ذاتی چیزوں میں لپیٹ کر بھیجی تھی۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک گرم لہر رواں ہوگئی۔ میں نے زیورات کو اپنے ہاتھوں میں تھاما، انہیں ماتھے سے لگایا۔ یہ وہ چوڑیاں تھیں جو امی نے شادی کے بعد........

© Daily Urdu (Blogs)