Wali Ullah (10)

میں نے اپنا سارا سونا، جو زندگی کی ضرورت تھا، بیچ دیا۔ کوئی ساڑھے چار تولے بنا اور اس سرمائے سے ایک پرانی مگر قابلِ اعتماد 1000 سی سی کار خرید لی۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ کار میرا روزگار بن گئی۔ میں نے اسے رینٹ پر چلانا شروع کیا۔ صبح سویرے نکلتا، دن کے پانچ چھے گھنٹے شہر کے مختلف حصوں میں گزارتا اور روزانہ دو ہزار روپے کی کمائی ہو ہی جاتی۔ یہ رقم معمولی تھی، مگر یہ میری محنت اور آزادی کا پہلا ثمر تھی۔ ہر روپیہ مجھے یہ باور کراتا کہ میں اب کسی کے احسان کا محتاج نہیں، بلکہ اپنے رب کے وعدے پر چلنے والا ایک آزاد بندہ ہوں۔

اب گھر میں کوئی روک ٹوک نہیں تھی، میں سکون سے مولانا احمد کی خدمت میں قرآن و سنت سیکھتا تھا۔ گھر میں زہرہ کے ساتھ بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔ رات کے پرسکون لمحات میں ہم اکٹھے بیٹھتے، قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور احادیث مبارکہ پر غور کرتے۔ زہرہ بھی دین سیکھنے میں میری ساتھی بن گئی تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا، مگر اس میں ایمان کا سکون اور علم کی روشنی بسی ہوئی تھی، جو کسی محل سے کم نہیں تھی۔ ایک دن، اپنے والد صاحب کی پرانی دکان کے پاس سے گزر ہوا۔ دل چاہا، ان سے مل لوں، خیریت پوچھ لوں۔ میں دکان میں داخل ہوا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور فوراً منہ پھیر لیا، دل پر چوٹ لگی، میں پیار سے ان کے پاس گیا اور انہیں جپھی میں لے لیا۔ "بابا جان"، میں نے دھیمے لہجے میں کہا، "آپ مجھے جتنا دھتکاریں، میں آپ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ آپ میرے باپ ہیں۔ آپ کے بغیر میری کوئی زندگی نہیں"۔ میرے اس نرم رویے پر ان کی آنکھیں نم ہوگئیں، اگرچہ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔

اسی دوران طاہر بھائی، جو میرے چچا زاد بھائی ہیں، وہاں آ گئے۔ "ارے ضرغام! اچھا کیا تم آ گئے۔ ہمارا گھر تو تمہارے جانے کے بعد رونے دھونے کا مرکز بن چکا ہے۔ امی جان تو ہر وقت تیرا نام لے لے کر روتی رہتی ہیں۔ سنو، آج ہر حالت میں گھر آنا ہے۔ تمہیں پتہ ہے، امی تم سے بہت اداس ہیں۔ کیسے بیٹے ہو تم؟ ماں کی یاد تک نہیں آتی؟" ان کی باتوں نے میرے دل کو دہرے کر دیا۔ میں نے کہا، "طاہر بھائی، کیا بتاؤں۔ امی جان تو ہر پل میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہیں۔ یہ دل ہی سمجھے"۔

اگلے دن شام کو، زہرہ کے ساتھ، میں گھر کی طرف چل پڑا۔ وہ راستہ، وہ کوچہ، وہ دروازہ۔۔ سب کچھ وہی تھا، مگر اب سب کچھ نیا نیا لگ رہا تھا۔ تایا ابو گھر کے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بغیر کچھ کہے اپنے گھر چلے گئے۔ محلے کے ایک پڑوسی نے شرماتے ہوئے سلام کیا، میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ منظر تھا جس کی توقع تھی۔ امی جان دروازے کے پاس ہی کھڑی تھیں، جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔ مجھے دیکھتے ہی وہ لپک کر میرے گلے سے لگ گئیں اور زور زور سے رونے لگیں۔ "میرے بیٹے۔۔ میرے لال۔۔ " پھر اپنے ہی ہاتھوں سے میری پیٹھ پر ہلکی سی چپت........

© Daily Urdu (Blogs)