Professor Fazaldad Arif Naat, Ilm Aur Tarbiyat Ka Roshan Hawala
میرے والدِ گرامی کا یومِ وفات اسلامی سال کے مہینے شعبان المعظم کی 14 تاریخ کو آتا ہے اور ان کے دنیا سے جانے کا دکھ ہر لمحہ دل میں موجود رہتا ہے مگر ہر سال برسی پہ دل شدید اداس ہو جاتا ہے۔
کسی معاشرے کی فکری شناخت ہمیشہ اُن لوگوں سے بنتی ہے جو خاموشی سے چراغ جلاتے رہتے ہیں۔ نعتیہ ادب کی روایت میں بھی کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو شہرت کی خواہش کے بغیر اپنا کام کرتی ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی خدمات خود بولنے لگتی ہیں۔ کوٹ نجیب اللہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز نعت گو شاعر، ماہرِ تعلیم اور صاحبِ اسلوب ادیب پروفیسر فضلداد عارف بھی انہی لوگوں میں شامل تھے جو 14 شعبان المعظم 1445 ہجری سن 2018 کو 68 برس کی عمر میں ہم سے جدا ہو گئے مگر اپنے علمی و ادبی نقوش چھوڑ گئے۔
مرحوم کا تعلق ایک زمیندار قبیلے سے تھا جو کوکلیاں (پنڈوری) میں رہائش پذیر تھا۔ محنت، خودداری اور علم سے محبت ان کی........
