Buzurg e Sahafat, Altaf Hassan Qureshi, Aik Ehad Ka Ikhtitam

بزرگِ صحافت، الطاف حسن قریشی، ایک عہد کا اختتام

پاکستان میں صحافت، ادب اور اردو زبان کی خدمت کرنے والی چند شخصیات ایسی ہیں جنہیں محض فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ کہا جاتا ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جن کے انتقال سے صحافت کا ایک سنہرا باب اختتام کو پہنچا۔ 16 مئی 2026 کو 94 برس کی عمر میں اُن کی وفات نے علمی و ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔

ہمارے بچپن میں گھروں میں مطالعے کا ایک خاص ماحول ہوا کرتا تھا۔ والدِ گرامی باقاعدگی سے "اردو ڈائجسٹ" منگوایا کرتے تھے۔ اُس کے اداریے، تحقیقی مضامین اور فکری تحریریں محض رسالہ نہیں بلکہ ایک درسگاہ محسوس ہوتی تھیں۔ اسی دوران والدِ گرامی "ریڈرز ڈائجسٹ" پڑھتے تھے جس ہم بھی کبھی کبھی پڑھ لیتے۔ مگر جب اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ شروع کیا تو احساس ہوا کہ یہ رسالہ نہ صرف عالمی معیار کا حامل ہے بلکہ اردو زبان، تہذیب اور فکری تربیت کا بھی ایک مضبوط ذریعہ ہے اور ریڈرز ڈائجسٹ کے مقابل ہے۔

جناب اعجاز حسن قریشی نے 1960 میں "اردو ڈائجسٹ" کی بنیاد رکھی جبکہ الطاف حسن قریشی نے بطور مدیرِ اعلیٰ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے اسے پاکستان کا معتبر ترین فکری و صحافتی جریدہ بنا دیا۔ اُن کا اندازِ........

© Daily Urdu (Blogs)