menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Akhir Kab Tak? Hattar Sanati Zone Hadsa

15 0
previous day

آخر کب تک؟ حطار صنعتی زون حادثہ

کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں صنعتوں اور کارخانوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے، کیونکہ یہی ادارے معیشت کو سہارا دیتے، روزگار کے مواقع پیدا کرتے اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان صنعتوں کی اصل طاقت وہ محنت کش مزدور ہوتے ہیں جو دن رات اپنی محنت سے اس نظام کو چلائے رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اسی ترقی کے عمل میں اکثر انہی مزدوروں کی جان، صحت اور حقوق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

حطار صنعتی زون میں پیش آنے والا حالیہ گیس بلاسٹ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے صنعتی نظام کی سنگین غفلتوں، کمزور نگرانی اور مزدور دشمن پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کا المناک انجام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں انسانی جان کی قدر کس قدر کم ہو چکی ہے۔ جب کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ اس کی صنعتیں قرار دی جاتی ہیں تو یہ بھی لازم ہے کہ ان صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مزدور دن رات مشقت، اوور ٹائم اور سخت حالات میں کام کرنے کے باوجود عدم تحفظ، استحصال اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ اگر وہ اپنے حقوق کی بات کریں تو انہیں ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے اور اگر کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو علاج تک میں تاخیر اور غفلت برتی جاتی ہے۔

اس سانحے میں بوسیدہ اور تیزاب سے متاثرہ گیس پائپ لائن کا پھٹ جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعتی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال مکمل طور پر نظر انداز کی جا رہی ہے۔ گیس لیکج جیسے واضح خطرات کو بروقت ٹھیک نہ کرنا مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ ریسکیو آپریشن میں ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر نے قیمتی جانوں کے ضیاع میں اضافہ کیا جو ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر بروقت امداد پہنچتی، اگر مقامی سطح پر مؤثر فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور طبی سہولیات موجود ہوتیں تو شاید نقصان اتنا زیادہ نہ ہوتا۔ یہ واقعہ صرف ایک فیکٹری یا ایک محکمے کی ناکامی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔

جنازے میں عوام، سماجی و سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ اس ناانصافی کو شدت سے محسوس کر رہا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین ہو اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ محض افسوس اور بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ صنعتی زونز میں باقاعدہ اور سخت سیفٹی آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے، بوسیدہ گیس لائنوں اور دیگر خطرناک انفراسٹرکچر کی فوری تبدیلی کی جائے، ہر صنعتی علاقے میں جدید فائر بریگیڈ، ریسکیو اسٹیشن، ایمبولینس اور ایمرجنسی میڈیکل سنٹر قائم کیے جائیں۔ مزدوروں کے لیے ہیلتھ انشورنس، حفاظتی تربیت اور شکایات کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے نظام کو مضبوط بنائے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ اگر اب بھی ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے اور ہر بار کوئی نہ کوئی خاندان اجڑتا رہے گا۔


© Daily Urdu (Blogs)