Basant Ke Mazhabi o Tehzeebi Pehlu Aur Hum

لاہور کی بسنت محض ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک جنون، ایک خواب اور اس شہرِ زندہ دلاں کی روح کا وہ نغمہ ہے جو فضاؤں میں لہراتی ڈور کے ساتھ گایا جاتا ہے۔ اگر میں ایک لاہوری بسنت کی آنکھوں سے خود دیکھا حال بیان کروں تو فروری کی یخ بستہ ہواؤں میں جب بہار کی ہلکی سی تپش گھلنے لگتی ہے تب لاہور کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی رقص کرنے لگتی ہے۔ یہ بے چینی کسی خوف کی نہیں، بلکہ اس "بو کاٹا" کے شور کی دستک ہوتی ہے جو صدیوں سے اس شہر کا مقدر رہا ہے۔

اندرون لاہور کی وہ تنگ و تاریک گلیاں اور بوسیدہ دیواریں، جن میں تاریخ سانس لیتی ہے، بسنت کے آتے ہی ایک نئے روپ میں ڈھل جاتی ہیں۔ بھاٹی ہو یا لوہاری، موچی گیٹ ہو یا ٹیکسالی، ہر حویلی کی چھت ایک نیا میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ وہ قدیم جھروکے اور لکڑی کے نقش و نگار والے دروازے گواہ ہیں کہ یہاں مہمان نوازی صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ اجنبی بھی چھت پہ آ جائے تو اسے تکے کباب اور لسی کے بغیر جانے نہیں دیا جاتا۔

رات کے پچھلے پہر جب آسمان........

© Daily Urdu (Blogs)