Lehje Ka Shajra Aur Degreeon Ka Qehat Ur Rijal

لہجے کا شجرہ اور ڈگریوں کا قحطِ الرجال

آج کے اس پُرشور اور مصنوعی دور میں ہم نے اپنی دیواروں کو تو فریم شدہ کاغذ کے ٹکڑوں سے سجا لیا ہے، مگر ہمارے کردار کے صحن ویران پڑے ہیں۔ ہر طرف ڈگریوں کی نمائش ہے، مگر انسانیت کا قحط ہے۔ لوگ اکثر بڑے تجسس سے پوچھتے ہیں کہ بابا بلھے شاہ نے کس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی؟ وارث شاہ کے پاس کون سا گولڈ میڈل تھا؟ یا سلطان باہوؒ نے کس لیبارٹری میں بیٹھ کر کائنات کے راز پا لیے تھے؟ ارے نادانو! ان عظیم ہستیوں نے "انسان گری" کی اس درسگاہ سے سند لی تھی جہاں پہلا سبق "خاموشی" اور آخری "ادب" تھا۔ ان کا نام اور کام صدیوں بعد بھی اس لیے زندہ ہے کہ ان کا علم ان کے عمل کی گواہی دیتا تھا، جبکہ ہمارا آج کا علم محض ہمارے تکبر کا اشتہار بن کر رہ گیا ہے۔

یاد رکھیے! اصل علم وہ نہیں جو دماغ میں بھرا ہو، بلکہ وہ ہے جو آپ کے رویوں سے جھلکتا ہے۔ عقلمند وہ نہیں جو سب سے زیادہ بولنا جانتا ہے، بلکہ دانا وہ ہے جسے یہ پتا ہو کہ کس کے سامنے، کتنا اور کیا بولنا ہے۔ آپ کا لہجہ اور آپ........

© Daily Urdu (Blogs)