menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kuch Waqt Peshawar Mein

25 0
14.07.2026

مجھے شہر، گاؤں، بڑی چھوٹی بستیاں، ریگستان، سمندر، گلستاں، کوہستاں، جنگل، ویرانے، گورستاں سب پسند ہیں۔ بڑے شہروں کی ویران جگہیں اور ویرانوں کی وحشت بھی بری نہیں لگتی۔ فطرت اور انسان کی بنائی سب چیزیں اور پھر انسانوں، وقت اور نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں برباد کی گئی یہی سب چیزیں۔

ان کا برباد ہونا دکھی کرتا ہے، بجا کہ بربادی سے مفر نہیں مگر میں ان مساعی کو بہ طور دیکھتا ہوں جو بربادی کے مقابل کی گئیں۔ پرانی عمارتیں، پرانی کتابیں، گزرے زمانوں کی یادیں اور یادگاریں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ کبھی سحر زدہ کرتی ہیں اور اسی مقام پر میں چوکنا ہوجاتا ہوں۔ میں ان سے تعارف چاہتا ہوں، ان میں گم اور ان کے رحم و کرم پر نہیں ہونا چاہتا۔ ان کے خلاف، احساس کی سطح پر مزاحمت کرتا ہوں۔

کل کا دن پشاور شہر کی کچھ جگہیں دیکھنے میں گزرا۔ یہاں کی سب جگہیں دیکھنے کے لیے تو کئی دن درکار ہیں۔ مجھے زیادہ دیکھنے کی ہوس نہیں ہوتی، بس یہ خیال ہوتا ہے کہ جسے بھی دیکھیں، پوری طرح دیکھیں۔

کئی بار ایک جگہ کو بھی پوری طرح دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسے تجربہ کرنے اور بسر کرنے کا کبھی وقت نہیں ہوتا، کبھی دماغ نہیں ہوتا اور کبھی ایک عجب افسردگی اس جگہ کی بجائے کہیں اور لے جاتی ہے، اس جگہ جسے افسردگی ہی نے اپنی جائے پناہ کے طور پر تعمیر کیا ہوتا ہے، میری روح کے کسی بعید ترین کونے میں۔

ایک ایک جگہ پر کئی قسم کی دربدری کا سامنا رہتا ہے۔

پشاور کئی بار آچکا ہوں۔ ہر بار ہر شہر سے ایک نیا تعارف ہوتا ہے۔ کل ہمارے ساتھ ڈاکٹر فضل کبیر اور ڈاکٹر سہیل احمد جیسے فاضل دوست تھے۔ انھوں نے ہی میزبانی کا بارگراں اٹھایا تھا اور........

© Daily Urdu (Blogs)