menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Warqe Thalta Munda

29 0
07.09.2026

نہ اس نے کبھی ٹیوشن پڑھی، نہ کسی اکیڈمی میں داخلہ لیا، نہ سارا سال کاپیاں بھر بھر کر لکھیں، نہ الگ سے خوبصورت نوٹس بنائے، نہ سکول سے واپسی پر گھر میں پڑھائی کی، نہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کتاب کو ہاتھ لگایا، نہ کوئی گائیڈ خریدی، نہ کوئی آن لائن دستیاب نوٹس خریدنے کی فرمائش کی، نہ گیس پیپر خریدے، نہ سابقہ سالوں کے پرچے دیکھے۔ امتحان سر پر آیا تو اس نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور تیاری شروع کر دی۔

اس کی پڑھائی کا انداز بھی بڑا عجیب تھا اور اس کو دیکھ کر تیتی فیصد مارکس کا خیال پالنا بھی بہت مشکل تھا۔ ایک سوال کا جواب کتاب کے ایک صفحے پر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ ایک سطر ایک صفحے پر، دوسرا نکتہ دو صفحات آگے اور وضاحت کسی اور جگہ، گویا کتاب کیا پڑھتا بس ورقے تھلتا رہتا اور کبھی کبھی تو ایسا لگتا کہ وہ پڑھائی کرنے کا ڈرامہ کر رہا ہے۔ نہ کوئی تیار شدہ نوٹس، نہ گیس پیپر، نہ کسی استاد کے منتخب کردہ اہم سوالات کی فہرست۔ اس کے سامنے صرف اصل کتاب تھی اور اس کے ہاتھ میں مسلسل صفحات پلٹنے کی عادت اور نویں جماعت میں چوراسی فیصد مارکس حاصل کر بیٹھا۔ یہ کس کا رزلٹ تھا؟ جی قارئین یہ خاکسار کے منڈے کا رزلٹ ہے۔ منڈے کے چوراسی فیصد مارکس لینے سے زیادہ مجھے اس طریقے نے حیران کیا جس سے بچے نے یہ نمبر حاصل کیے۔

یہاں سے میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ اگر میرا منڈا بغیر ٹیوشن، بغیر اکیڈمی، بغیر سارا سال کاپیاں بھرنے اور بغیر رات دن کتابوں کے سامنے بیٹھنے کے صرف اصل کتاب پڑھ کر چوراسی فیصد نمبر لے سکتا ہے تو پھر ہمارے تعلیمی نظام میں یہ اتنا شور شرابا کس لیے مچا ہوا ہے؟

صبح سکول، شام اکیڈمی، رات پڑھائی، الگ نوٹس، گیس پیپر، ماڈل پیپر، حل شدہ سوالات، ٹیسٹ سیشن اور پھر بھی بچے فیل۔ ایک طرف میرا منڈا ہے جو کتاب سے دوستی کرکے چوراسی فیصد مارکس لے آیا اور دوسری طرف........

© Daily Urdu (Blogs)