menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maraqba

13 1
19.01.2026

شہر کی گلیاں شور سے بھری ہیں، دفاتر میں چہروں پر تھکن جمی رہتی ہے، گھروں میں مہینے کے بجٹ پر مشمتل حساب کتاب کے کاغذ بکھرے پڑے ہیں اور ذہن میں مہنگائی کا مستقل الارم بج رہا ہے۔ مسلسل خبریں، سوشل میڈیا، معاشی دباؤ، تعلقات کی پیچیدگیاں، عدمِ تحفظ کا احساس، زیادہ بچے، کم آمدنی، بڑھتی ذمہ داریاں اور دفتری بدمزگیاں انسان کو آہستہ آہستہ اس کی اپنی ہی زندگی سے بیگانہ کرتی جا رہی ہیں۔ اول تو نیند پوری ہی نہیں ہوتی اگر ہو بھی جائے تو تازگی نصیب نہیں، بات بات پر غصہ آ جاتا ہے اور معمولی مسئلے بھی پہاڑ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جی ہاں پاکستان میں یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ ایسے حالات میں مسئلہ صرف معاشی یا سماجی نہیں رہتا بلکہ اصل بحران ذہن کے اندر جنم لیتا ہے جہاں سکون، توازن اور برداشت خاموشی سے غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے کسی بیرونی سہارے سے زیادہ اندرونی سکون و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال سے فوری بحفاظت نکلنے کے لیے مراقبہ ایک بہترین دوا ہے۔

مراقبہ کو انگریزی میں میڈیٹیشن یا مائند فُل نیس کہا جاتا ہے اور اس کے معنی توجہ کو منتشر حالت سے نکال کر ایک نکتے، ایک کیفیت یا ایک شعوری حالت میں مرکوز کرنا کے ہیں۔ مراقبہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ ذہن، احساس اور سانس کی ایسی باقاعدہ مشق ہے جس کے ذریعے انسان بیرونی شور، اندرونی بے ترتیبی اور خیالات کے ہجوم سے فاصلے پر جا کر اپنے باطن سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ اس عمل میں مقصد خیالات کو زبردستی روکنا نہیں بلکہ ان کو دیکھنا، سمجھنا اور بتدریج ذہنی سکون کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ مشرقی روایت میں مراقبہ کو روحانی بالیدگی کا ذریعہ سمجھا گیا، جبکہ جدید نفسیات نے اسے ذہنی صحت اور جذباتی توازن کی عملی تکنیک کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

مراقبہ کا امیدوار کون ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت مراقبہ کسی خاص طبقے، عمر یا مزاج تک محدود نہیں۔ وہ فرد جو ذہنی دباؤ، اضطراب، غصے، پریشانی، مستقبل کے خوف، بے چینی یا مسلسل تھکن کا شکار ہو، اس کے لیے مراقبہ خاص طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد، اساتذہ، طالب علم، فیصلہ سازی کی ذمہ داری اٹھانے والے لوگ اور وہ افراد جو روحانی یا فکری گہرائی چاہتے ہیں، مراقبہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو بظاہر پرسکون زندگی گزار رہا ہو، مراقبے کے ذریعے اپنے شعور میں مزید........

© Daily Urdu (Blogs)