Aqal, Mazhab Air Qurbani
ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کے دنوں میں سوشل میڈیا پر نام نہاد روشن خیالی کا بھوت سوار ہوا جو کہ اکثر سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک ناٹک محض ہوتا ہے۔
ایک صاحب نہایت درد بھرے لہجے میں لکھتے ہیں کہ جانور ذبح کرنے کے بجائے کسی غریب کو ائیر کولر خرید دیں۔ دوسرے فرماتے ہیں کہ قربانی پر لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے سڑکوں پر ٹھنڈے پانی کے کولر لگوا دیں۔ جبکہ تیسرے دانشور نے حساب لگا لیا کہ ایک بکرے کی قیمت سے کتنے یتیموں کی فیس ادا ہو سکتی ہے۔ گویا بقول امیر مینائی:
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
بظاہر تو یہ درد سننے میں دلکش لگتے ہیں لیکن اس درد کا دائرہ کار مذھبی احکامات میں نہیں بلکہ فلاح و بہبود اور حقوق العباد میں آتا ہے۔ حقوق العباد کو بنیاد بنا کر مذہبی احکامات کو پس پشت نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقتاً دونوں کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یہ بھی غور کے قابل امر ہے کہ فریضہ قربانی کا مقصد جانور یا گوشت سے تعلق نہیں بلکہ اطاعت سے منسلک ہے۔
مذہب جہاں انسانی عقل کو ختم نہیں کرتا وہیں پر یہ عقل کو اللہ تعالیٰ کے مقابل کھڑا بھی نہیں کرتا۔ اگر ہر عبادت کو صرف فائدے سے ناپنا شروع کر دیا جائے تو پھر نماز کے بارے میں بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پانچ وقت مسجد جانے کے بجائے وہ وقت کسی........
