Sex Aur Pidar Shahi Muashra
سیکس اور پدرشاہی معاشرہ
ایک عورت کا سماجیاتی زاویۂ نظر، جو سطروں کے بیچ بھی پڑھتی ہے۔
یہ تحریر مدتِ مختصر پہلے قلم بند کی تھی۔ آج اتفاقاً پھر نظر سے گزری تو خیال آیا کہ اسے نئے آنے والے قارئین کے لیے دوبارہ پیش کر دیا جائے۔ بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر کلام بہت ہوتا ہے، مگر کثرتِ گفتار میں اصل مدعا کہیں پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔ یہ تحریر بھی اسی نوع کے ایک موضوع سے متعلق ہے: جنس، قربت اور ازدواجی تعلق کو اس زاویے سے سمجھنے کی ایک کوشش کہ ہمارے معاشرے میں سیکس کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے، اسے کن معنوں میں برتا جاتا ہے اور شاید زیادہ اہم یہ کہ اسے انسانی وقار، باہمی رضامندی اور ازدواجی رفاقت کے تناظر میں کس طرح سمجھا اور برتا جانا چاہیے۔
سو، دوبارہ پیشِ خدمت ہے
یہ مرد بیزاری پر مبنی تحریر نہیں ہے، نہ ہی اس کا مقصد کسی فردِ واحد یا کسی خاص رشتے پر تنقید ہے۔ ایک دہائی پر مشتمل خوشحال ازدواجی زندگی گزارنے والی ایک عورت، بطورِ سوشیالوجسٹ، اپنے معاشرے کے رویّوں، زبان، نفسیات، طاقت کے ڈھانچوں اور سیکس کے گرد بنائی گئی اجتماعی conditioning کو سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تحریر کے بہت سے مشاہدات برسوں کے observation، کئی شادی شدہ عورتوں سے ہونے والی گفتگو اور سینکڑوں ازدواجی زندگیوں کو عورتوں کے perspective سے سننے، سمجھنے اور analyze کرنے کے بعد وجود میں آئے ہیں۔ لہٰذا اس تحریر کو میری ذات، کردار یا نجی زندگی کے بجائے ایک عورت کے perspective، ایک سماجی observation اور ایک انسانی سوال کے طور پر پڑھا سمجھا جاوے۔
جنوبی ایشیائی معاشروں، بالخصوص پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں جنسیت عورت اور مرد کے لیے کبھی یکساں معنی نہیں رکھتی۔ مرد کی جنسیت کو قوت، غلبے، مردانگی اور تفاخر سے نسبت دی جاتی ہے، جبکہ عورت کی جنسیت کو حیا، اخلاق، ضبط اور خاندانی آبرو کے نام پر اس طرح باندھ دیا گیا ہے کہ عورت کا جسم رفتہ رفتہ اس کی اپنی ذات سے زیادہ مرد کی عزت، غیرت اور سماجی حیثیت کا حوالہ بن جاتا ہے۔ اسی ذہنیت کا سب سے عریاں اظہار ہماری روزمرہ زبان میں ملتا ہے۔ ایک مرد دوسرے مرد کو ذلیل کرنا چاہے تو اس کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کی جنسیت کو گالی بنا دیتا ہے اور اپنی برتری جتانی ہو تو اپنے ہی جسم اور عضوِ تناسل کو قوت کی علامت بنا کر پیش کرتا ہے۔ یوں عورت کا جسم مرد کی ناموس........
