Wazir e Azam Aur Molana Ka Dil Chasp Makalma
وزیراعظم اور مولانا کا دلچسپ مکالمہ
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ جہاں شدید تلخیوں اور الزامات سے بھری پڑی ہے، وہاں کبھی کبھار ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو ایوان کے بوجھل ماحول کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ آٹھ محرم الحرام بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ایک ایسی ہی تاریخی اور دلچسپ محفل کا منظر پیش کرنے لگا جہاں ایک طرف حکومتی پالیسیوں پر "دھواں دار" وار ہو رہے تھے، تو دوسری طرف اچانک پیدا ہونے والی جملہ بازی نے پورے ایوان کو قہقہوں سے گونجنے پر مجبور کر دیا۔
جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن، جو ہمیشہ کی طرح اپنے روایتی اور کڑک انداز میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور "ابا شریف" کی حکمتِ عملی کا کچا چٹھا کھول رہے تھے، اچانک اپنی تقریر روکنے پر مجبور ہو گئے۔ وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہال میں انٹری بنی۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پارلیمانی روایات اور ذاتی احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ وزیراعظم خود چل کر مولانا کی نشست تک گئے، گرمجوشی سے مصافحہ ہوا اور علیک سلیک کا ایک خوشگوار لمحہ پیدا ہوا۔ لیکن اصل جادو اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم نے مائیک سنبھالا۔ فرمانے لگے........
