Molana Ki Karahi Mein Ghan Garaj |
مولانا کی کراچی میں گھن گرج
گزشتہ شب چودہ مئی کو کراچی میں ہونے والا جمعیت علمائے اسلام کا کامیاب اجتماع اس حقیقت کا ایک بار پھر واضح ثبوت بن کر سامنے آیا کہ مولانا آج بھی پاکستان کی سیاست کے ایک ناگزیر کردار ہیں۔ کراچی کے ضلع غربی میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی "وحدتِ امت کانفرنس" ایسا عوامی اجتماع محسوس ہو رہا تھا جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ جلسے میں ہزاروں کارکنان، عقیدت مندوں اور شہریوں کی موجودگی نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ مولانا کی اپیل اب بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ شرکاء نہایت انہماک سے مولانا کی پرجوش تقریر سنتے رہے۔
اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ عالمی حالات پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے امتِ مسلمہ مسلسل ظلم و بربریت کا شکار ہے۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کے بعد آج غزہ میں جاری مظالم پوری دنیا کے سامنے ہیں، مگر مسلم حکمرانوں اور امت کی خاموشی لمحۂ فکریہ بن چکی ہے۔ مولانا نے اجتماع کے توسط سے امتِ مسلمہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو بیداری سےعملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں مسلمانوں کو کمزور اور منتشر کرنا چاہتی ہیں، قبلۂ اول پر حملوں کے بعد اب نظریں ایران پر مرکوز ہیں اور اس پورے خطے کو دباؤ میں لا کر بالآخر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا نے اپنی تقریر میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور کراچی کا یہ جلسہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کی ابتدا چند روز قبل مردان سے کی گئی تھی۔ مولانا نے واضح انداز میں کہا کہ یہ تحریک حکومت کے........