menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Be Ronaq PSL Aur Nai Teemon Ki Bad Qusmati

12 0
yesterday

بےرونق پی ایس ایل اور نئی ٹیموں کی بدقسمتی

پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن شروع ہو چکا ہے اور چوالیس میچوں میں سے تیرہ میچ اب تک کھیلے جا چکے ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس بار پی ایس ایل میں وہ مزہ، وہ جوش اور وہ رونق کہیں نظر نہیں آ رہی جو آج سے دس سال پہلے کے ایڈیشنز کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ پی ایس ایل نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شائقینِ کرکٹ کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے، مگر اس بار حالات کچھ مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے نمایاں فرق گراؤنڈز میں تماشائیوں کی عدم موجودگی ہے، جہاں میچز تقریباً خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے جا رہے ہیں۔

بغیر کراوڈ کے کرکٹ میچ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ نہ صرف کھلاڑیوں کو وہ لطف اور جذبہ ملتا ہے جو بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں میسر آتا ہے، بلکہ شائقین کے اندر بھی وہ جوش و خروش پیدا نہیں ہو پاتا جو کرکٹ کا حسن ہے۔ تماشائیوں کی تالیاں، نعروں کی گونج اور ہر اچھی کارکردگی پر ملنے والی داد کھلاڑیوں کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک عام میچ کو یادگار بنا دیتے ہیں، مگر اس بار پی ایس ایل ان سب چیزوں سے محروم دکھائی دے رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ایک نمائشی ٹورنامنٹ بن کر رہ گیا ہو۔

حکومت کی جانب سے توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے پیشِ نظر شائقین کے اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ بظاہر ایک مثبت قدم معلوم ہوتا ہے، مگر اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے منفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شائقین کے بغیر کرکٹ کی خوبصورتی اور اہمیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے دیگر متبادل اقدامات بھی کیے جا سکتے تھے، جو شاید زیادہ مؤثر ثابت ہوتے۔

حکومتی فیصلے کا عوامی رویے پر بھی کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ لوگوں کو گراؤنڈ آنے سے روک دیا گیا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے پیٹرولیم کے استعمال میں کمی کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت گھروں سے باہر نکل رہے ہیں، چاہے وہ سیر و تفریح ہو یا دیگر مصروفیات اور یوں پیٹرولیم کے استعمال میں کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ حالات، حتیٰ کہ جنگی صورتحال کے تناظر میں بھی، پیٹرولیم کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ فیصلہ اپنے بنیادی مقصد کے حصول میں بھی ناکام دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب، اس ایڈیشن میں شامل ہونے والی دو نئی ٹیمیں، راولپنڈیز اور حیدرآباد کنگز، بھی اب تک خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ راولپنڈیز، جس کی قیادت تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کر رہے ہیں اور جس میں محمد عامر، نسیم شاہ اور محمد زمان جیسے باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں، اپنی ابتدائی تینوں میچز ہار چکی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد کنگز بھی مسلسل شکستوں سے دوچار ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر یہ دونوں ٹیمیں سب سے نچلے درجے پر موجود ہیں، جبکہ لاہور قلندرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز ٹاپ پوزیشنز پر دکھائی دے رہی ہیں۔

شائقین کی عدم موجودگی اور نئی ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی نے مجموعی طور پر پی ایس ایل کی کشش کو کم کر دیا ہے۔ ناظرین کی دلچسپی میں واضح کمی آئی ہے اور گھروں میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کا رجحان بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ اگرچہ کرکٹ ایک غیر یقینی کھیل ہے اور کسی بھی وقت حالات بدل سکتے ہیں اور ابھی نئی ٹیموں کے پاس واپسی کا موقع موجود ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بہتر مواقع اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور کوئی ایسا متوازن حل تلاش کرے جس میں نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی بچت ممکن ہو بلکہ شائقینِ کرکٹ کو بھی اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دی جا سکے۔ دنیا کی دیگر لیگز، خصوصاً آئی پی ایل، میں شائقین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت ہے، حالانکہ وہاں بھی مہنگائی اور وسائل کے مسائل موجود ہیں، مگر انہوں نے کرکٹ کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی ہے۔

لہٰذا پاکستان میں بھی ضروری ہے کہ پی ایس ایل کی اصل روح کو بحال کیا جائے۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں اور ساتھ ہی شائقین کے لیے اسٹیڈیم کے دروازے کھولے جائیں، تو نہ صرف کرکٹ کا کھویا ہوا حسن واپس آ سکتا ہے بلکہ پاکستان کی کرکٹ کی عالمی سطح پر ساکھ بھی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ خالی گراؤنڈز میں کھیلی جانے والی کرکٹ نہ تو دیکھنے میں پرکشش ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا وہ اثر ہوتا ہے جو ایک بھرپور ماحول میں کھیلنے سے پیدا ہوتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو کرکٹ، شائقین اور ملک کے مفاد میں یکساں طور پر بہتر ہوں، تاکہ ایک بار پھر پی ایس ایل اپنی حقیقی رونقوں کے ساتھ دنیا کے سامنے آئے اور کرکٹ کا جادو دوبارہ دلوں کو مسحور کر سکے۔


© Daily Urdu (Blogs)