Andhe Sheeshon Ka Shehar
شہر، جسے حاکمِ وقت نے سرکاری نقشوں میں شہرِ تسکین، کا نام دے رکھا تھا، درحقیقت پگھلے ہوئے شیشے اور سرمئی دھند کے ایک ایسے پیالے کی مانند تھا جہاں وقت اپنی ہی دُم کو کاٹنے والا سانپ بن چکا تھا۔
حاکمِ وقت، جس کا نام امیرِ صیاد ہے، ایک ایسا لکڑی کے مہرے جیسا شخص تھا جو راتوں کو جاگ کر ریشم کے کیڑوں سے اندھیرے کی بساط بنتا تھا۔ اس نے بھانپ لیا تھا کہ انسانی آنکھ محض ایک عضو نہیں، بلکہ بغاوت کا پہلا شرارہ ہے۔ اگر آنکھ دیکھ لے کہ عدل کی ترازو کو کباڑی کے بھاؤ بیچ دیا گیا ہے، اگر آنکھ دیکھ لے کہ رات کے پچھلے پہر شہر کی گلیوں سے معصوم خوابوں کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں، تو وہ آنکھ دل کو پگھلا کر ہاتھ کو تلوار بنا دیتی ہے۔ چنانچہ، ایک طویل، سرد اور مخملی رات، جب پورا شہر خوابِ خرگوش میں تھا، امیرِ صیاد کے کارندوں نے شہر کے مرکزی چشموں اور پانی کے ذخائر میں ایک چمکدار، نیلا اور بے بو محلول ملا دیا۔ یہ محلول اندھے پن کا نہیں، بلکہ مقدس حجاب، کا تھا۔ اگلی صبح جب لوگوں نے آنکھیں کھولیں، تو ان کے ڈیلے سفید عقیق جیسے ہو چکے تھے۔ وہ اندھے تھے، مگر انہیں بتایا گیا کہ یہ تو روشنی کی آخری حد ہے، جہاں پہنچ کر رنگ اپنی مادی صورت کھو دیتے ہیں۔
آئیے اس بستی کے کرداروں کے علامتی ناموں اور ان کے پسِ پردہ چھپی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں:
امیرِ صیاد وہ حاکم ہے جو نظر نہیں آتا، مگر اس کے بھاری بوٹوں کی گونج ہر گلی میں سنائی دیتی ہے۔ وہ کوئی عام ظالم بادشاہ نہیں، بلکہ وہ ایک ماہرِ حشرات کی طرح انسانوں کو اپنی پنوں سے مصلوب کرنے کا شوقین ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ ایک خوبصورت، پرسکون اور مطیع شہر وہی ہو سکتا ہے جو تصویر کی طرح ساکت ہو۔ چونکہ متحرک آنکھیں تصویر کا سکون برباد کرتی ہیں، اس لیے اس نے پورے شہر کی بصارت کو ایک ابدی دھند کے حوالے کر دیا۔ وہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھ کر ایک دوربین سے پورے شہر کو دیکھتا ہے، ایک ایسی........
