menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sifaratkari Ya Bare Hamle Ki Tayyari

34 0
02.04.2026

سفارت کاری یا بڑے حملے کی تیاری؟

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دنیا کی بڑی جنگیں اکثر مذاکرات کے سائے میں پروان چڑھتی رہی ہیں۔ 1938ء میں Munich Agreement ہوا۔ برطانیہ اور فرانس نے ہٹلر کے ساتھ بیٹھ کر امن کی بات کی، دنیا نے سکھ کا سانس لیا، لیکن صرف ایک سال بعد دوسری عالمی جنگ شروع ہوگئی۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ سفارت کاری کامیاب ہوگئی ہے، مگر درحقیقت وہ وقت خریدا جا رہا تھا، ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی۔

اسی طرح 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے بھی خفیہ سفارتی رابطے جاری تھے، مگر میدانِ جنگ میں ٹینک ہی بولے اور حالیہ تاریخ میں 2020ء کا واقعہ سب کے سامنے ہے جب قاسم سلیمانی کو بغداد میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب خطے میں سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مذاکرات اور حملے ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ بعض اوقات ایک ہی حکمت عملی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔

آج امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی اسی تاریخ کا تسلسل دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف بیانات میں سختی ہے، دوسری طرف پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات میں ایک بار پھر پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو سفارتی سرگرمیاں دکھائی ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کا پاکستان آنا دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کی کڑی تھا۔ یہ ملاقاتیں رسمی نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے ایک واضح مقصد تھا:........

© Daily Urdu (Blogs)