menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Houthi, Saudi Arab Aur Jang Ki Chingari

24 0
monday

حوثی، سعودی عرب اور جنگ کی چنگاری

دنیا کی تاریخ میں کچھ جنگیں توپوں سے پہلے نقشوں پر لڑی جاتی ہیں، کچھ میز پر بیٹھے سفارت کار لڑتے ہیں اور کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایک چھوٹا سا پہاڑی گروہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یمن آج ایسی ہی ایک کہانی بن چکا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہے، دنیا کی بڑی معاشی اور تیل کی طاقت، دوسری طرف یمن کے حوثی ہیں، ایک مسلح تحریک جو برسوں کی خانہ جنگی کے بعد یمن کے بڑے اور آبادی والے حصے پر قابض ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا نہیں کہ میزائلوں کو راستہ ڈھونڈنا پڑے، یمن سعودی عرب کا براہِ راست ہمسایہ ہے اور اب ستمبر 2026ء میں یہ پرانی جنگ ایک مرتبہ پھر خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

19 ستمبر کو ریاض میں فضائی حملے کے سائرن بجے، سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک لیا گیا، جبکہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت اور دیگر حساس مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں اور آگ کے مناظر بھی سامنے آئے۔ اس سے چند روز پہلے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں حوثی حملوں سے شہری زخمی ہوئے تھے۔ یعنی یہ محض تاریخ کی کتاب میں پڑی ہوئی جنگ نہیں، یہ آج کی خبر ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حوثی کون ہیں؟ یہ سعودی عرب کے دشمن کیوں بنے؟ ایران ان کے ساتھ کیوں کھڑا ہے؟ اور اگر یہ جنگ مزید پھیل گئی تو پاکستان اور ترکی کہاں کھڑے ہوں گے؟

اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً ایک صدی پیچھے جانا ہوگا۔ 1932ء میں عبدالعزیز ابن سعود نے حجاز، نجد اور مختلف علاقوں کو متحد کرکے مملکتِ سعودی عرب قائم کی۔ اس وقت یمن ایک الگ ریاست تھا اور سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ سادہ نہیں رہے۔ سرحدی تنازعات، قبائلی سیاست اور علاقائی طاقت کے سوالات دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود رہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے، حوثی اس وقت موجود ہی نہیں تھے۔ حوثی تحریک کئی دہائیاں بعد وجود میں آئی۔

حوثیوں کی جڑیں شمالی یمن کی زیدی شیعہ برادری میں ہیں۔ ان کی تحریک کا تعلق حوثی خاندان سے ہے اور ان کا رسمی نام "انصار اللہ" ہے۔ ابتدا میں یہ بنیادی طور پر ایک مذہبی، ثقافتی اور سیاسی تحریک تھی، لیکن 2000ء کی دہائی میں یہ مسلح تحریک میں تبدیل ہوگئی اور یمنی حکومت کے ساتھ اس کی جنگیں شروع ہوئیں۔

پھر 2011ء آیا۔........

© Daily Urdu (Blogs)