menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chor Kon Hai?

11 0
previous day

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہاں ہر شخص کرپشن کے خلاف ہے، بشرطیکہ کرپشن دوسرا کر رہا ہو۔ ہم سیاست دانوں کو چور کہتے ہیں، حکمرانوں کو لٹیرے قرار دیتے ہیں، سرکاری افسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ملک کی تباہی کا سارا ملبہ چند لوگوں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم نے شاید کبھی یہ سوال خود سے نہیں پوچھا کہ اگر ہمیں بھی وہی اختیارات، وہی وسائل اور وہی مواقع مل جائیں تو کیا ہم واقعی مختلف ثابت ہوں گے؟

یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر ناگزیر بھی۔ کیونکہ قوموں کا اخلاقی معیار صرف ان کے حکمرانوں سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ ایک عام شہری عوامی امانت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص سرکاری اینٹ، ایک ٹائل، ایک گملا، ایک حفاظتی راڈ یا بجلی کے ٹرانسفارمر کا تیل اپنا حق سمجھنے لگے، تو پھر مسئلہ صرف حکمرانوں کی کرپشن نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس بیماری میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔

میرے گھر کے باہر فیروزپور روڈ پر پیدل چلنے والوں کے لیے ایک لوہے کا پل بنا ہوا ہے۔ روزانہ سینکڑوں لوگ اس پل کے ذریعے مصروف شاہراہ عبور کرتے ہیں۔ چند سال پہلے اس پل پر خوبصورت گملے رکھے گئے تھے تاکہ ماحول خوشگوار محسوس ہو، لیکن وہ چند ہی دنوں میں غائب ہو گئے۔ کسی نے انہیں اپنے گھر کی زینت بنا لیا، کسی نے شاید فروخت کر دیے۔

اس کے بعد پل کے کناروں پر لگے اسٹیل کے حفاظتی راڈ ایک ایک کرکے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ پہلے ایک راڈ اترا، پھر دوسرا، پھر تیسرا اور آج پل کا تقریباً آدھا حصہ حفاظتی جنگلے سے محروم ہے۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ کئی مہینوں میں ہوتا رہا، لیکن نہ کسی نے روکا، نہ کسی نے پوچھا، نہ کسی نے دوبارہ لگائے۔

کسی شخص نے وہاں رسیاں باندھ دی ہیں تاکہ اگر کوئی بچہ یا بزرگ پھسل جائے تو شاید وہ رسی اس کی جان بچا لے۔ لیکن کیا رسی کبھی اسٹیل کے مضبوط حفاظتی جنگلے کی جگہ لے سکتی ہے؟

میں جب بھی وہاں سے گزرتا ہوں تو ایک ہی منظر میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اگر خدا نہ کرے کسی دن کسی ماں کا معصوم بچہ کھیلتے کھیلتے اس خلا سے نیچے جا گرے تو اس ماں پر کیا گزرے گی؟ اس کے بعد کیا ہوگا؟ میڈیا پہنچ جائے گا، انتظامیہ جاگ جائے گی، انکوائریاں شروع ہو جائیں گی، نوٹس جاری ہوں گے، متعلقہ افسر معطل ہوں گے اور چند دن بعد نئے راڈ بھی لگ جائیں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حادثہ ہونے کے بعد کارروائی ہونی ہے تو حادثے سے پہلے ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا صرف اس شخص کی جس نے حفاظتی راڈ چرایا؟ یا اس سرکاری محکمے کی بھی جس نے........

© Daily Urdu (Blogs)