China Aur America
دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں، چین اور امریکہ، ایک عجیب سے موڑ پر کھڑی ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور دونوں یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر یہ حریفانہ فضا قابو سے باہر ہوگئی تو نقصان صرف انہی دو ممالک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں طرف سے ایک نئی اصطلاح بار بار سننے کو مل رہی ہے اور وہ ہے "تعمیری اور اسٹریٹجک مستحکم تعلقات"۔
ہارورڈ کینیڈی اسکول کے پروفیسر گراہم ایلیسن، جو تاریخ میں بڑی طاقتوں کے درمیان جنگوں کے رجحان پر اپنی تحقیق "تھیوسیڈیز کا جال" کے لیے جانے جاتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی جی ٹی این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس موضوع پر دلچسپ بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے جبکہ امریکہ پہلے سے قائم دنیا کی طاقتور ترین قوم اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی طاقت کسی پرانی طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو اکثر یہ رقابت جنگ پر منتج ہوتی ہے۔ مگر ان کے مطابق دونوں ممالک کے موجودہ رہنما اس خطرے کو سمجھتے ہیں اور اسی لیے جنگ سے بچنے کو اپنی مشترکہ ذمہ داری قرار........
