Saza e Mout Par Ghair Elania Pabandi

سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی

پاکستان میں سزائے موت اور نظامِ قصاص پر جاری بحث محض ایک قانونی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرا آئینی، فکری اور نظریاتی سوال ہے۔ یہ معاملہ براہِ راست اس ریاستی تشخص سے جڑا ہوا ہے جو خود کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان" قرار دیتی ہے اور جس کا آئین اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ مملکت میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ اس پس منظر میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر قانون موجود ہے، عدالتیں فیصلے دے رہی ہیں اور سزا برقرار رکھی جا رہی ہے تو پھر سزائے موت پر عملدرآمد عملاً کیوں رکا ہوا ہے؟

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَلَکُمُ فِی الُقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَا أُولِی الُأَلُبَابِ" یعنی "اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے"۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی اصول ہے۔ اسلامی قانون میں قصاص کا مقصد انتقام نہیں بلکہ انسانی جان کے تحفظ، ظلم کی روک تھام اور معاشرتی توازن کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔ جب کسی معاشرے میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق یقینی سزا ملتی ہے تو اس سے نہ صرف مظلوم کو انصاف کا احساس ملتا ہے بلکہ جرم کے پھیلاؤ میں........

© Daily Urdu (Blogs)