Islami Nazriyati Council Air Infiradi Muqadamat

اسلامی نظریاتی کونسل اور انفرادی مقدمات

پاکستان کا آئینی نظام ایک واضح اصولِ تقسیمِ اختیارات پر قائم ہے، جس کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنے اپنے متعین دائرہ ہائے اختیار کے اندر رہتے ہوئے فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں آئینِ پاکستان نے بعض مشاورتی اور معاون ادارے بھی قائم کیے ہیں، جن کا بنیادی مقصد قانون سازی کے عمل کو نظریاتی اور اصولی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی انہی آئینی اداروں میں سے ایک ہے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل کے اقدام نے نئی آئینی و قانونی بحث کو جنم دیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا پر معروف انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔ اسلامی کونسل کی جانب سے فرد واحد کے مقدمہ میں رائے نے یہ اہم سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا کونسل کو کسی انفرادی یا فوجداری مقدمے میں مداخلت یا رائے دینے کا کوئی آئینی اختیار حاصل ہے یا نہیں؟

اس سوال کا درست اور اصولی جواب آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 228 تا 231 میں موجود........

© Daily Urdu (Blogs)