Levi Ki Maeeshat |
ملکی معیشت کے پیچیدہ دھاروں میں بعض اوقات ایسے رجحانات ابھر کر سامنے آتے ہیں جو محض اعداد و شمار کی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سازی، عوامی نفسیات اور ریاستی ترجیحات کے وسیع تر تناظر میں بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی مد میں حالیہ غیر معمولی اضافہ بھی ایک ایسا ہی مظہر ہے، جس نے نہ صرف مالیاتی حلقوں کو چونکا دیا ہے بلکہ عام شہری کے معاشی بوجھ میں بھی ایک خاموش مگر مسلسل اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران، جب عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی نے تیل کی منڈیوں میں بے یقینی کو ہوا دی، پاکستان میں پٹرولیم لیوی کی وصولی نے ایک نئی بلندی کو چھو لیا۔ اس عرصے میں 180 ارب روپے سے زائد کی وصولی محض ایک عدد نہیں بلکہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ ریاست نے عالمی حالات سے پیدا ہونے والے مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے اندرونی ذرائع پر کس شدت سے انحصار کیا۔
اگر رواں مالی سال کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو جولائی سے مڈ اپریل تک 1 ہزار 234 ارب روپے کی خطیر رقم پٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ محض ایک مالیاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسی حکمتِ عملی کا عکاس ہے جس میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے بالواسطہ محصولات پر انحصار بڑھایا گیا۔ اس حکمتِ عملی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ........