menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tehran Ka Sifarti Maarka

23 0
18.05.2026

تہران کا سفارتی معرکہ

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سفارت، سلامتی، تزویرات اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس انداز میں متصادم دکھائی دیتے ہیں کہ معمولی لغزش بھی پورے خطے کو غیرمعمولی اضطراب میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے کی غیر یقینی کیفیت، عالمی توانائی منڈیوں کا اضطراب اور علاقائی اتحادیوں کی بے چینی اس امر کی غماز ہے کہ دنیا ایک نئے سفارتی امتحان کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے مابین تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے متحرک کردار ادا کرنا محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی خارجہ حکمتِ عملی میں ایک نئے تزویراتی شعور کی علامت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا تہران کا حالیہ دورہ بظاہر ایک روایتی سرکاری سفر محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کارفرما سفارتی حرکیات نہایت گہری اور دور رس نوعیت کی حامل ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی تعطل خطے میں ایک نئے جغرافیائی اضطراب کو جنم دے رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا ثالثی کردار اس لیے بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف تہران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی روابط رکھتا ہے بلکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی ایک طویل سفارتی و تزویراتی تعلقات کا حامل رہا ہے۔ یہی دوہری سفارتی استعداد پاکستان کو ایک ایسے ممکنہ رابطہ کار کے طور پر پیش کرتی ہے جو کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی ماحول کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی........

© Daily Urdu (Blogs)