Sharait Ka Sifarat Nama |
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر اس نہج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کی سیاست ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے تہران کے سامنے امن عمل کے لیے جو سخت شرائط رکھی ہیں، وہ محض سفارتی نکات نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ ان شرائط میں ایرانی سرزمین پر ہونے والی بمباری کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے سے انکار، افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی، ایران کے جوہری پروگرام کو ایک محدود تنصیب تک سمیٹنے کی خواہش، منجمد اثاثوں میں صرف جزوی نرمی اور خطے بھر میں ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے تقاضے شامل ہیں۔ بظاہر یہ شرائط ایک ممکنہ معاہدے کا خاکہ ہیں، مگر درحقیقت یہ طاقت، دباؤ اور تزویراتی بالادستی کی نئی تعبیر بھی ہیں۔
امریکی مؤقف کو اگر سرد جنگ کے بعد کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں کسی ایسی طاقت کو ابھرنے نہیں دینا چاہتا جو اس کے روایتی اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل اور خلیجی ریاستوں، کے لیے مستقل تزویراتی چیلنج بن سکے۔ ایران گزشتہ دو دہائیوں میں نہ صرف عسکری اور میزائل صلاحیتوں میں پیش رفت کر چکا ہے بلکہ اس نے لبنان، عراق، شام اور یمن میں اپنے سیاسی و عسکری اثرات کے ذریعے ایک ایسا جغرافیائی دائرہ تشکیل دیا ہے جسے مغربی مبصرین "مزاحمتی محور" سے تعبیر کرتے ہیں۔ امریکہ کی حالیہ شرائط اسی دائرۂ اثر کو محدود کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔
ایران کے لیے سب سے حساس نکتہ یقیناً افزودہ یورینیم کی منتقلی اور جوہری تنصیبات کو محدود کرنے کا........