Main Property Dealer Hoon

میرے ہم عصر احباب کے بخوبی علم میں ستر کی دہائی میں اسلام آباد میں آبپارہ مارکیٹ میں قائم کردہ "ارشاد ایکسچینج مارٹ" ہوگا، جو محض ایک پراپرٹی کا دفتر نہیں بلکہ اعتماد کا ایک استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ دفتر مسوٹ مری سے میرے رشتے کے ماموں، ارشاد عباسی صاحب نے قائم کیا تھا۔ اُس زمانے میں مری اور گلیات کے بہت کم لوگ پراپرٹی کے میدان میں نمایاں تھے اور جن چند ناموں کا احترام سے ذکر کیا جاتا تھا، ان میں ارشاد ایکسچینج مارٹ کا نام سرفہرست تھا۔

یہ وہ دور تھا جب پراپرٹی ڈیلر کا مطلب صرف "کمیشن ایجنٹ" نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک ایسا شخص سمجھا جاتا تھا جس کی زبان، ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ لوگ لاکھوں روپے کے معاملات محض ہاتھ ملانے پر کر لیا کرتے تھے۔ ارشاد عباسی صاحب نے اگلی دو دہائیوں میں نہ صرف کامیاب سرمایہ کاری کی بلکہ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پنڈی، مری اور گلیات کے اوورسیز پاکستانیوں کی بے شمار جائیدادوں کے معاملات کروائے۔ دیانت داری، تعلقات اور اعتماد نے ان کے نام کو ایک کامیاب اور معتبر پراپرٹی ڈیلر کے طور پر شہرت دی۔ بعد ازاں کچھ معاملات میں ان کا نام کافی متنازعہ ہوا مگر مجموعی طور پہ وہ بھرپور اننگ کھیل کے ریٹائر ہوئے۔

پھر نوے کی دہائی کے ساتھ ہی پاکستان بدلنے لگا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اوپر تلے حکومتیں بدلنے اور سیاسی ہنگاموں کے بعد جنرل مشرف کا دور آیا اور پھر پاکستان میں پراپرٹی ڈیلر ازم ایک باقاعدہ سماجی وبا کی طرح گھر گھر پھیل گیا۔ شوکت عزیز کے "ٹرکل ڈاؤن اکانومی" ماڈل، ڈالرائزیشن اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم نے پوری قوم کی توجہ ایک ہی نکتے پر مرکوز کر دی: "پلاٹ خریدو، پلاٹ بیچو، امیر بن جاؤ"۔

دو........

© Daily Urdu (Blogs)