Doobta Murree, Nawaz Sharif Aur Sheerazi Sahab |
ڈوبتا مری، نواز شریف اور شیرازی صاحب
تقریباً تین سال بعد میں مال روڈ مری میں داخل ہوا۔ عید کی دوسری رات کی بھیانک ٹریفک میں جکڑا ہوا ڈیڑھ گھنٹے کا جھیکا گلی چوک سے جی پی او تک کا سفر میرے لئے بے پناہ شاکنگ تھا۔ ملکہ کہسار جسے میں نوے کی دہائی میں سرسبز چھوڑ کر گیا تھا، آج ایک بالکل مختلف اور بے قابو تعمیراتی منظرنامے کے ساتھ میرے سامنے موجود تھی۔
جھیکا گلی چوک میں کھڑے ہوتے ہی "برج ظفر" کے نام سے دیو قامت بلڈنگ نظر آئی۔ پھر آگے بڑھتے ہی دائیں جانب جہاں کبھی صرف ایک چائنیز ریستوران ہوا کرتا تھا، اس سے قبل ایک کلومیٹر کے پیچ میں آٹھ آٹھ منزلہ ہوٹل نظر آئے جن کی پارکنگ بالکل برلب سڑک تھی۔ ٹریفک جام کی وجہ سے دھیرے دھیرے سرکتے شائید مجھے پہلی دفعہ مری کی اضافی تعمیرات نظر آئیں۔ جھیکا گلی سے جی پی او چوک جاتے ہوئے دائیں جانب کی پہاڑی جو کبھی حسن کا استعارہ تھی اور بیشتر خالی تھی، اب مکمل تاراج ہو چکی تھی۔
جیسے ہی میں جی پی او چوک کے قریب پہنچا، منظر مزید گھمبیر ہوتا گیا۔ جی پی او سے پہلے کے دونوں اطراف ہوٹلوں کی ایک قطار اور ان میں اضافہ شدہ منزلیں واضح طور پر نظر آنے لگیں۔ بعض عمارتوں کی بلندی اور حجم نے پرانے مری کے روایتی افق کو تقریباً چھپا دیا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں مری کی نوآبادیاتی منصوبہ بندی کا حسن سب سے زیادہ محسوس ہوتا تھا، مگر اب وہ حسن شدید دباؤ میں نظر آنے لگا۔
جی پی او چوک پر اتر کر جب میں نے واک شروع کی تو میرے اضطراب میں اور اضافہ ہوگیا۔ بائیں جانب ایمبیسیڈر ہوٹل کی بلند عمارت اور اس کے ساتھ ہی دی مال مری کی دیوہیکل بلڈنگ نے جی پی او کی تاریخی بلڈنگ کا تقریباً گلا گھونٹ دیا........