Razaat |
رضاعت کا مطلب دودھ پلانا ہے اگر سوئے اتفاق سے زوجین ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں خواہ طلاق کے ذریعے سے یا خلع کے ذریعے سے اور عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہو اس کی رضاعت کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے قرآن مجید نے اس مسئلہ کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے فریقین کو باہم موافقت کی تاکید فرمائی اور فرمایا: پھر اگر وہ (مطلقہ) عورتیں تمہارے کہنے سے تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو اور (بچے کی رضاعت کے معاملہ میں) پسندیدہ طریقے پر باہم موافقت رکھواور اگر تم باہم ضد اور نا اتفاقی کرنے لگواور ماں انکارکر دے تو باپ کے کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی (الطلاق 6)۔
بچے سے ہمدردانہ رویہ: مطلب یہ ہے کہ آپس کی ضد اور کشمکش میں بچے کی زندگی خراب نہ ہو بچہ تو دونوں کی اولاد ہے اور دونوں کی محبت کا مرکز ہے۔ دونوں کو چاہیے کہ اس معاملہ میں شریفانہ طریقہ اختیار کریں اور باہمی موافقت کے ساتھ اس کی پرورش کا اچھا انتظام کریں۔ ماں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر میں دودھ پلانے سے انکار کروں گی تو اس کا اثر کس پر پڑے گا۔ باپ تو کسی اور عورت کا انتظام بہر حال کرلے گا لیکن میرے بچے کو میرا دودھ نہ مل سکے گا باپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ مجھے بہر حال اسکے دودھ پلانے کا معاوضہ دینا ہی ہے تو پھر میں اس کو اس کی گود میں کیوں نہ ڈالوں جو ہر وقت اس پر شفقت و محبت کی........