Aeela |
ایلاء کے لغوی معنی قسم کھانے کے ہیں فقہ کی اصطلاح میں ایلاء سے مراد یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے قطع تعلق کرنے کی قسم کھائے اور یوں کہے۔ ترجمہ: بخدا میں تیرے قریب نہ جاؤں گا یا خدا کی قسم میں چار ماہ تک تیرے قریب نہ جاؤں گا۔
زمانہ جاہلیت میں عربوں کے ہاں یہ رواج تھا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو کسی وجہ سے ناپسند کرتا اور وہ یہ چاہتا کہ اسے طلاق بھی نہ دوں تاکہ یہ کسی دوسرے شخص سے نکاح بھی نہ کر سکے تو وہ اس سے ازدواجی تعلقات ختم کرلینے کی قسم کھا لیتا۔ اس سے اس کی غرض عورت کو تکلیف پہنچانا ہوتی۔ چونکہ قسم کھاتے وقت مدت کاتعین نہ کیا جاتا اس لیے اس بیچاری کی تمام عمر اس بندش میں گزر جاتی۔ طلاق نہ ملنے کے باعث وہ کسی دوسری جگہ نکاح بھی نہ کر سکتی۔ گویا نہ تو اسے بیوی کی حیثیت حاصل ہوتی اور نہ ہی مطلقہ کی بلکہ وہ عمر بھر کے لئے معلقہ ہو کر رہ جاتی۔
یہ درست ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہ سکتے۔ بگاڑ کے اسباب پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہر ناراضگی پر ایسی قطع تعلقی کر لی جائے کہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ قانونی طور پر رشتہ نکاح میں تو بندھے رہیں مگر عملاً وہ ایک دوسرے سے اس طرح الگ رہیں گویا وہ میاں بیوی نہیں ہیں چنانچہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس رسم بد کو ختم کرنے کے........