Etemad Ki Shikast
رات کے آخری پہر کی خاموشی میں ایک عجیب اذیت ہوتی ہے۔ ایسی اذیت جو شور نہیں کرتی، صرف اندر ہی اندر انسان کو چاٹتی رہتی ہے۔ اختر اکثر انہی ساعتوں میں جاگتا رہتا تھا۔
کھڑکی کے پار پھیلے اندھیرے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوتا جیسے زندگی میں ہر خوبصورت چیز کو بچانے کے لیے انسان کو سخت ہونا پڑتا ہے۔ وہ نرم مزاج آدمی نہیں تھا مگر بے رحم بھی نہیں تھا۔ اس کی سختی کے پیچھے ایک خوف چھپا تھا، کھو دینے کا خوف۔ وہ مریم سے بے حد محبت کرتا تھا۔ ایسی محبت جس میں آدمی خود کو بھی بھول جاتا ہے۔
دفتر سے واپسی پر سب سے پہلے بچے کو گود میں لیتا پھر مریم کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لاتا۔ کبھی اس کی پسند کی چوڑیاں، کبھی کتابیں، کبھی بے وجہ پھول۔ لوگ اس کے مزاج سے خوف کھاتے تھے مگر مریم جانتی تھی کہ اختر کا دل غیر معمولی حد تک محبت کرنے والا تھا اسی لیے وہ حساس تھا۔ شدید حساس۔
اسے یہ برداشت نہیں تھا کہ کوئی غیر مرد مریم کو اس نظر سے دیکھے جس نظر سے وہ خود دیکھتا ہے۔ وہ محتاط رہنے کو محبت کا حصہ سمجھتا تھا، جبکہ مریم کبھی کبھی اسی محتاط رویے کو گھٹن محسوس کرنے لگتی۔ مگر اس گھٹن کے باوجود وہ یہ جانتی تھی کہ اختر وفادار آدمی ہے۔ خالص اور یک طرفہ محبت کرنے والا آدمی اور شاید یہی چیز بعد میں اس کے جرم........
