Abraham Accord Ka Jaal Ghaseb Ki Qabooliyat Ya Zameer Ka Soda

ابراہیم ایکارڈ کا جال غاصب کی قبولیت یا ضمیر کا سودا

ابراہیم ایکارڈز کے سائے میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر اسلامی دنیا میں جو نئی سیاسی و سفارتی بساط بچھائی جا رہی ہے وہ محض چند ریاستوں کے باہمی تعلقات کی بحالی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک گہرے، ہمہ گیر اور طویل المدت عالمی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی سرا اس سچائی سے جا ملتا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں ایک ناگزیر اور قابلِ قبول حقیقت بنا کر پیش کیا جائے اور اس پورے منظر نامے کے سب سے بڑے روحِ رواں اور داعی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست، شخصیت اور ان کے بیانات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ ایک ہی انسان بیک وقت اتنے تضادات کو اپنے اندر کیسے سموئے ہوئے ہے۔ وہ ٹرمپ جو کبھی ایران پر کڑی اقتصادی پابندیاں لگا کر اور عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دے کر اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کا تاثر دیتے ہیں وہی ٹرمپ اچانک امن کے نوبیل انعام کے خواب دیکھنے لگتے ہیں اور خود کو دنیا کا سب سے بڑا ثالث بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی سیاست کا یہ انداز دنیا کو سخت تذبذب اور الجھن میں مبتلا رکھتا ہے کیونکہ ایک دن وہ مسلم ممالک کے ساتھ غیر معمولی قربت اور تجارتی شراکت داری کا راگ الاپتے ہیں اور دوسرے ہی دن انہی ممالک کے مقتدر حلقوں پر ہر ممکن سفارتی اور معاشی دباؤ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی سیاست میں اعلیٰ انسانی اقدار، اخلاقی اصول یا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی اہمیت ثانوی ہے جبکہ طاقت کا استعمال اور ذاتی و گروہی مفادات کی تکمیل ہی ان کا اصل محور و مرکز ہے۔

آج عالمی برادری، دانشور اور عام انسان یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ٹرمپ کے کس چہرے کو حقیقی مانا جائے؟ کیا وہ چہرہ سچا ہے جو عالمی امن، جنگوں کے خاتمے اور فوجوں کی واپسی کی نوید سناتا ہے یا وہ چہرہ اصل ہے جو خطوں میں جنگ کی ہولناک آگ بھڑکاتا ہے اور پرامن حالات کو پل بھر میں انتشار کی طرف دھکیل دیتا ہے؟ کیا ان کے دوستی کے دعوے معتبر ہیں یا ان کا وہ روپ حقیقت پر مبنی ہے جس میں وہ اپنے ہی پرانے اور وفادار اتحادیوں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے داخلی سیاسی فائدے کے لیے انہیں داؤ پر لگا دیتے ہیں؟

حالیہ دنوں میں جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر یہ خبریں تیزی سے گردش کر رہی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین پسِ پردہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی آ رہی ہے اور کسی ممکنہ بڑے امن معاہدے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے تو پاکستان سمیت خطے کے چند اہم ترین ممالک کے سفارتی کردار پر عالمی حلقوں میں سنجیدہ گفتگو شروع ہو چکی تھی۔ لیکن بالکل اسی نازک موڑ پر صدر ٹرمپ کا یہ دوٹوک اور جارحانہ بیان سامنے آ گیا کہ تمام اسلامی ممالک کو ہر صورت ابراہیم ایکارڈز کا حصہ بننا ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔

یہ بیان کوئی عام سفارتی جملہ یا سرسری خواہش نہیں تھی بلکہ یہ واشنگٹن کی طرف سے دنیا کو دیا گیا ایک واضح اور تلخ اشارہ تھا کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں ہونے والی ہر سیاسی، معاشی اور تزویراتی پیش رفت کو صرف اور صرف اسرائیل کے سیکیورٹی اور تجارتی مفادات کی عینک سے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا سادہ اور خوفناک مطلب یہ ہے کہ اب اس خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہونے دی جائے گی جب اسرائیل کو اس کی تمام تر جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود ایک جائز اور مکمل ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔

یہیں پر صدر ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی خارجہ پالیسی کی گہری دورخی اور منافقت پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے سامنے خود کو ایک ایسے عظیم مصلح اور تاریخ ساز لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی انتھک کوشش کرتے ہیں جو دنیا کو خونریزی سے نجات دلانا چاہتا ہے مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ان کی ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر سفارتی دباؤ بالآخر اسرائیل کو یکطرفہ فائدہ پہنچانے اور معصوم فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنے کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔

ٹرمپ کی پوری سیاسی زندگی اور صدارتی دور تضادات کا ایک ایسا مجموعہ رہا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی غیر متوقع طبیعت اور لمحاتی فیصلوں نے عالمی سیاست کے مروجہ اصولوں کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ ایک دن اپنے اتحادیوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں انہیں سیکیورٹی کی ضمانتیں دیتے ہیں اور اگلے ہی دن کسی ایک برقی پیغام یا پریس کانفرنس کے ذریعے انہیں شدید نوعیت کی غیر یقینی اور سفارتی تنہائی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

ایک طرف ان کا نعرہ یہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب دوسرے ملکوں کی لامتناہی اور بے مقصد جنگوں سے باہر نکلنا چاہیے اور اپنے سرمائے کو اپنے لوگوں پر خرچ کرنا چاہیے لیکن دوسری طرف وہ عملاً ایسی نئی عالمی صف بندیاں اور جتھے بازیاں شروع کر دیتے ہیں جو نئے تنازعات اور جنگوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں بھی ان کا یہی تذبذب ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ وہ کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں اس کے جری جوانوں کی شجاعت اور تزویراتی اہمیت کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں اور کبھی اچانک پینترا بدل کر اسی پاکستان پر فنڈنگ روکنے معاشی پابندیاں لگانے اور مالیاتی جرائم پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے جیسے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے سفارتی راہداریوں میں بیٹھے ان کے اپنے قریبی ساتھی، کٹر حمایتی اور ہمدرد بھی اکثر یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ٹرمپ اصل میں چاہتے........

© Daily Urdu (Blogs)