Shajar Saya Dar Ki Talash Mein |
شجر سایہ دار کی تلاش میں
ایک زمانہ تھا جب لوگ انفرادی یا گروہ کی شکل میں زرخیز زمینوں کی تلاش میں دوسرے خطوں کی طرف سفر کیا کرتے تھے۔ تب انہیں نا کسی پروانۂ راہداری یا پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی تھی اور نا ہی سرحدوں کا کوئی تصور تھا۔ مگر جوں جوں انسان نے سماجی قوانین تشکیل دئیے اور شہریت کے اصول مرتب کئے تو فرد اپنی طے شدہ مکانیت کے ضوابط کا پابند ہوتا چلا گیا۔
مگر ان تمام قوانین اور اصول و ضوابط کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی خط مستقیم پر نہیں چلتی۔ کبھی وبائیں اور قحط پھیل جاتے ہیں تو کبھی قدرتی آفات اور جنگیں ایسے انسانی المیے جنم دیتی ہیں کہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ کئی صدیوں میں ایسے واقعات دنیا کے تمام براعظموں میں رونما ہوچکے ہیں۔
حالیہ چند دہائیوں میں نقل مکانی میں کئی نئے رجحان جنم لے چکے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف غیر ترقی یافتہ ملکوں کے افراد کا بہتر روزگار کی تلاش میں جانے کا رجحان۔
ترقی پذیر ممالک اور روایتی معاشروں سے آئے ہوئے لوگ جن اقدار، مذہبی تشریحات اور سماجی رویوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، مغرب کی آزاد اور فرد قائم بالذات فضا ان کے لیے شدید ذہنی کشمکش کا باعث بنتی ہے۔
انسان مادی سہولیات، امن اور معاشی آسودگی کے لیے تو ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتا ہے، لیکن وہاں کی تہذیب، مساواتِ مرد و زن اور فرد کی آزادی کو دل سے قبول کرنے کے بجائے اسےاخلاقی بگاڑ تصور کرنے لگتا ہے۔
ماضی میں مشرق و مغرب کی ہر طرح کی طاقتوں نے دنیا بھر کے دیگر خطوں پر قابض ہو........