menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Saru Qad, Khwaja Razi Haider

18 0
saturday

سرو قد، خواجہ رضی حیدر

خاکے کا آغاز کرتے ہوئے میرے ذہین میں ایک لفظ تھا، سروقد، جب میں نے سرو کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو حاصل شدہ معلومات نے مجھے حیران کردیا۔ لکھا تھا، یہ سدا بہار درخت ہے، اوپر کی سمت پھیلتا ہے، اس کی چھال باریک تہوں پر مشتمل ہوتی ہے، یہ ہر موسم میں سرسبز رہتا ہے، دیمک اور کیڑے اسے نقصان نہیں پہنچا پاتے، خشک سالی میں بھی قائم رہتا ہے، اس کے پتوں اور تنے میں ایک مسحور کن خوشبو پائی جاتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے، حرف بہ حرف یہ ساری خوبیاں تو ان میں موجود ہیں جن کا میں یہاں ذکر کرنے جارہا ہوں۔

1996، جب احمد برادرز پریس ناظم آباد والے شبیر مما نے مجھے بتایا کہ تمہاری کتاب بیساکھیاں جلد ساز کے پاس سے آج آ جائے گی۔ تو میں اسی شام ان کے پریس پہنچ گیا۔ ناظم آباد کی پریس مارکیٹ کی بہت سی خم کھاتی گلیوں میں سے ایک گلی میں ان کا پریس کے اوپر ہی چھوٹا سا دفتر تھا۔ میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا، مگر دروازے پر ہی ٹھٹک گیا۔ کمرے میں کچھ اور لوگ موجود تھے۔ شبیر مما نے قریب بیٹھے ہوئے پہلے شخص سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ان سے ملو یہ خواجہ رضی حیدر ہیں۔ یہ میرا رضی بھائی سے اولین تعارف تھا۔ دوسرا تعارف رضی بھائی کے پہلو میں بیٹھے اوج کمال سے ہوا۔ شبیر مما کے قریب ہی میری کتاب کا بنڈل رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لو اپنی کتاب انہیں پیش کرو۔ یوں میری پہلی کتاب کی پہلی کاپی پہلی ملاقات میں معروف شاعر و محقق خواجہ رضی حیدر کے ہاتھوں میں پہنچی۔ یہ تیس سال پہلے کا منظر ہے۔

یہ دھندلا سا منظر اور ادھوری سی ملاقات اچانک اس دن بہت معنی خیز ہوگئی جب دفتر میں مجھے کسی نے بتایا کہ آپ کی کتاب پر ایک رسالے میں تبصرہ شائع ہوا ہے۔ میں چونکا۔ اس نے رسالے کا نام بتایا۔ میں نے نائب قاصد کو حسن اسکوائر کے چوراہے پر بنے ہوئے اخبار اور بک اسٹال کی طرف بھیج کر رسالہ منگوایا۔ یہ رسالہ دستک تھا۔ صفحات پلٹ کر دیکھا تو ایک صفحے پر بیساکھیاں کا ٹائٹل چھپا ہوا تھا اور سرخی لگی ہوئی تھی۔ محبانہ تعلق کی بے باکانہ شہادت۔ نیچے تبصرہ نگار کا نام لکھا ہوا تھا، خواجہ رضی حیدر۔ یہ عنوان انہوں نے کتاب میں موجود خاکہ نما افسانہ میرے والد صاحب کو ذہن میں رکھ کر باندھا تھا۔ مجھے چند ہفتوں پہلے والی ملاقات یاد آ گئی۔ تبصرہ پڑھتے ہوئے حیرتوں کے مزید در کھل گئے، پہلی ملاقات میں کوئی کسی کے لیے اتنا حوصلہ افزا تبصرہ کیسے لکھ سکتا ہے۔ میں شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا مگر میرے پاس رضی........

© Daily Urdu (Blogs)