PPP Aur Bayan Bazu

میں نے حال ہی میں معروف ترقی پسند دانشور شمیم احمد صاحب کی معراج محمد خان کے حوالے سے یادداشت پر لکھی انگریزی کتاب کا ترجمہ مکمل کیا ہے۔ کتاب پروف ریڈنگ اور اغلاط کی درستگی کے بعد حتمی مسودے کی شکل میں ناشر زاہد کاظمی کے حوالے ہوچکی ہے۔ اگلے ماہ اس کی اشاعت ممکن ہے۔

شمیم صاحب نے معراج محمد خان سے ان کی زندگی کے آخری ماہ و سال میں ان کی نجی اور سماجی زندگی پر تفصیل سے کئی مجلسوں میں انٹرویو کیے جو ریکارڈنگ کی شکل میں موجود ہیں۔ شمیم صاحب معراج محمد خان کے زمانہ طالب علمی کے دوست ہیں۔ دونوں نے طلباء سیاست میں اکٹھے حصہ لیا اور این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے اکٹھے جدوجہد کی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ دانشوروں کا ایک ایسا گروہ سوشل میڈیا پر موجود ہے جو پیپلزپارٹی کی تشکیل، اسے عوامی جماعت میں بدلنے اور اس کے نظریاتی رنگ روپ کو نکھارنے میں بائیں بازو کے کردار سے بالکل انکاری ہے۔

وہ مغربی پاکستان میں عوامی سیاست اور اس کے ابتدائی خدوخال کی تاریخ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو سے شروع کرتا ہے اور پھر ان کے جانشینوں پر ختم کر دیتا ہے۔ اس کی نظر میں ذوالفقار علی بھٹو سے قبل مغربی پاکستان میں عوامی سیاست مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اور درمیانے طبقے کی پرتوں میں کبھی موجود نہیں تھی۔

وہ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے کہ مغربی پاکستان میں طبقاتی بنیادوں پر ترقی پسند سیاست کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی پاکستان، خیبرپختون خوا میں سوشلسٹ پارٹی پاکستان (مولانا عبدالرحیم پوپلزئی)، خدائی خدمتگار تحریک، جی ایم سید کی سندھ پیپلزپارٹی، حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری کمیٹی، ریاست قلات کی نیشنل پارٹی اور پنجاب میں آزاد پاکستان پارٹی جیسے کی گروپوں نے رکھی تھی۔ جبکہ مشرقی بنگال میں ترقی پسند عوامی سیاست کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی مشرقی بنگال، مولانا عبدالحمید بھاشانی کی عوامی لیگ، مولوی فضل حق کی کرشک سرامک پارٹی اور دیگر کئی جماعتوں نے رکھی تھی۔ پچاس کی دہائی میں متحدہ پاکستان میں ان مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں نے باہم متحد ہوکر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے پہلے مرکزی صدر مولانا عبدالحمید بھاشانی اور مرکزی جنرل سیکرٹری محمود الحق عثمانی تھے۔ مغربی پاکستان میں اس کے مرکزی صدر ولی خان اور جنرل سیکرٹری میجر اسحاق تھے۔

کمیونسٹ پارٹی پاکستان نے اپنے قیام کے پہلے دو سالوں میں صنعتی مزدوروں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پرمنظم کرنے لیے آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کا قیام عمل میں لائی۔ کسانوں کو منظم کرنے کے لیے آل پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی بنیاد رکھی۔ سندھ میں ہاری کمیٹی کو ہی کسانوں کو منظم کرنے کا کام سونپے رکھا۔ طالب علموں کو منظم کرنے کے لیے ڈی ایس ایف کی بنیاد رکھی۔ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کے لیے انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی گئی۔ خواتین کو منظم کرنے لیے انجمن جمہوری خواتین محاذ کی بنیاد رکھی۔

پاکستان میں یہ بائیں بازو اور ترقی پسند قوم پرست سیاسی کارکن ہی تھے جنھوں نے اینٹی ون یونٹ تحریک کا آغاز کیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم اس بات سے اچھے سے واقف ہیں کہ گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرزا اور ایوب خان نے 1956ء کے آئین کے تحت بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ملک میں ہونے والے انتخابات کو رکوانے کے لیے وہ اقدامات اٹھائے تھے جو ایوب خان کے مارشل لاء پر اپنی انتہا کو پہنچے کیونکہ وہ انتخابات اگر منعقد ہوتے تو نیشنل عوامی پارٹی پاکستان بھاری اکثریت سے انتخابات جیت جاتی اور پاکستان میں یہ واحد عوامی سیاسی پارٹی تھی جس کا سوشلسٹ منشور تھا۔ اس منشور کی روشنی میں پاکستان عوامی جمہوریہ پاکستان بنتا۔ صوبائی خود مختاری ملتی۔ ملک بھر کی بھاری صنعتیں، بینکنگ سمیت تمام مالیاتی سرمایہ قومیا لیا جاتا۔ تمام بڑی جاگیریں ختم کر دی جاتیں۔ نوآبادیاتی دور میں تعمیر فوجی و سول نوکر شاہی کا نوآبادیاتی ڈھانچہ ختم کر دیا جاتا۔ ملک کو سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ملاوں، فوجی و سول نوکر شاہی سے نجات مل جاتی۔ پاکستان عالمی سامراجی قوتوں کی ایجنٹ اور گماشتہ ریاست نہ بنتا۔

پچاس کی دہائی سے لیکر ایوب خان کے اگلے 11 سال پاکستان کی جملہ ریاستی مشینری اور اس ملک کے سرمایہ دار، جاگیردار، فوجی و سول نوکر شاہی اور ملاں پر مشتمل حکمران طبقات اپنے تمام تر باہمی اختلافات اور اقتدار کی رسا کشی کے پاکستان میں نیشنل عوامی پارٹی جیسی عوامی سیاست کو دفن کرنے کے لیے متحرک رہے۔ انھوں نے متحدہ پاکستان میں محنت........

© Daily Urdu (Blogs)