Peoples Party Ki Qayadat Ki Ikhlaqiat

بلاول بھٹو زرداری بلاول ہاوس ملتان میں موجود تھے۔ اس روز کہا گیا کہ وہ کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔ میں بلاول ہاوس پہنچا تو اندر کمرہ خاص میں وہ یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود سمیت جنوبی پنجاب کے پی پی پی کے طبقہ اشرافیہ کے سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ باہر لاؤنج میں پانچ سات پرانے کارکن صوفوں پر براجمان تھے۔ ایک صوفے پر سفید شلوار قمیص اور کالی رنگ کی شیروانی میں ملبوس سر پر طرہ سجائے، آنکھوں پر کالے شیشوں کی عینک چڑھائے ملک الطاف علی کھوکھر اجنبیوں کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔

اس دوران پی پی پی جنوبی پنجاب کے کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین اور سنئیر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، جاوید صدیقی، پی پی پی کے ایم پی اے علی حیدر گیلانی تین چار مرتبہ کمرہ خاص سے نکل کر اپنے کچھ مہمانوں کو لیکر واپس کمرہ خاص میں چلے گئے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی ملک الطاف علی کھوکھر سے سلام دعا تک نہیں لی۔ انھیں اندر آنے تک کو نہیں کہا۔ مجھے اس بات کی بڑی تکلیف ہوئی۔ ملک الطاف علی کھوکھر سے میں نے اپنی تکلیف کا برملا اظہار کیا۔ میرے ساتھ ضیاء مارشل لاء میں ملک الطاف علی کھوکھر کے ساتھ ملتان میں سب سے کم عمر قید کاٹنے والے محمد اعظم خان بھی موجود تھے۔ ملک الطاف علی کھوکھر نے میری بات سن کر نہایت دکھ اور تکلیف کے ساتھ کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی ان سے اس بات کا بدلہ لے رہے ہیں کہ میں نے بطور صدر پارلیمانی بورڈ ملتان سید یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس ٹکٹ کے حقدار اس حلقے سے پی پی پی کے وہ کارکن ہیں جنھوں نے 11 سال مارشل لاء کا بہادری سے مقابلہ کیا اور پارٹی کو اس حلقے میں زندہ رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ٹکٹ پارٹی کے کارکنوں کو دیا جاتا تو وہ یوسف رضا اور نواز شریف دونوں کو بھاری اکثریت سے شکست دیتے۔ اس مخالفت کے بعد سے گیلانی خاندان میرے اور میرے ساتھ کھڑے ملتان کے مخلص سیاسی کارکنوں کو الگ تھلگ کرنے کی سیاست پر عمل پیرا ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس حوالے سے اپنی یادداشتیں لکھ دی ہیں جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ ملتان ڈویژن میں پارٹی کے حامی غریب اور سفید پوش منجھے ہوئے سیاسی کارکنوں کو کیسے ذلیل کیا گیا اور پارٹی کی گراس روٹ لیول بنیاد کو تباہ کر دیا گیا۔ اسے اس نہج پر پہنچایا گیا کہ گیلانی، قریشی جیسے چند خاندان بی بی کو یہ باور کراتے رہے جیسے وہ پیپلزپارٹی میں رہ کر پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔

یہ جاگیردار، وڈیرے وہ تھے جو یا تو پی این اے میں کھڑے تھے جیسے گیلانی یا وہ اقتدار کا سورج غروب ہوتے ہی بھٹو اور پارٹی کو چھوڑ گئے تھے جیسے قریشی۔ انہوں نے کہا کہ 74ء سے 77ء تک بھٹو صاحب تو ملتان اور لاہور میں وائٹ ہاوس، سی ایم ہاوس اور گورنر ہاوس کے ہوکر رہ گئے تھے۔ پارٹی کے غریب اور سفید پوش کارکن جو غیرت مند تھے ان کا جینا صادق قریشی نے محال کر رکھا تھا۔ پنجاب پی پی پی کی صدارت افضل وٹو جیسے جاگیردار کے پاس تھی جس نے شیخ محمد رشید سمیت پارٹی کے مزدور کسان دوست رہنماوں کے بنائے پارٹی تنظیموں کے عہدے داروں کو فارغ کردیا تھا اور ان کی جگہ جاگیرداروں کے نمک خوار پارٹی کے عہدوں پر مسلط کردہے گئے تھے۔ جب مارشل لاء لگا تو پورے پنجاب میں پارٹی کی تنظیموں کے عہدے دار تو ڈھونڈے سے ملتے........

© Daily Urdu (Blogs)