Trump Greenland Ko Nahi Bhoole
ٹرمپ گرین لینڈ کو نہیں بھولے
انقرہ میں جاری نیٹو کانفرنس کے موقع پر امریکا اور یورپ کے تعلقات ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، یورپی اتحادیوں پر امریکا سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا، ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا اظہار کیا اور دھمکی دی کہ امریکا اپنے تمام فوجی دستے یورپ سے واپس بلا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کے اعلانات کررہے ہیں اور یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر امریکا پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ اپنی سلامتی کا بوجھ خود اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کی بنیادی شکایت نئی نہیں۔ وہ برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ امریکا نیٹو کے دفاعی اخراجات کا غیر متناسب بوجھ اٹھا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتے۔ اس بار بھی انھوں نے یہی مؤقف دوہرایا کہ امریکا سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے لیکن جب امریکا کو ضرورت پڑتی ہے تو یورپی اتحادی ساتھ نہیں دیتے۔ انھوں نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران یورپی حمایت نہ ملنے کا شکوہ کیا اور کہا کہ وہ دراصل اتحادیوں کو "آزما" رہے تھے کہ ضرورت پڑنے پر وہ امریکا کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں۔
یہی نہیں، صدر ٹرمپ نے نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کے درمیان موجودہ تعلق "یکطرفہ" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر جرمنی سمیت کئی ممالک نے برسوں تک دفاع پر خاطر........
