Screen Se Bahir Ki Dunya

سکرین سے باہر کی دُنیا

اذان شہر کا ایک ذہین مگر سُست لڑکا تھا۔ سُست اس لیے نہیں کہ وہ پڑھ نہیں سکتا تھا بلکہ اس لیے کہ اس کی دُنیا ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ گئی تھی۔ موبائل اس کے ہاتھ میں ایسے چِپکا رہتا جیسے "چمگادڑ دیوار سے چِپک جائے"۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ موبائل دیکھتا اور رات کو اسی کے ساتھ سو جاتا۔ اس کی ماں اکثر کہتی، "بیٹا! یہ موبائل تمہاری آنکھوں کا نور کھا جائے گا، کچھ دیر باہر بھی نکلو اور باہر کی دُنیا دیکھو"۔ مگر اذان کے کان پر جُوں تک نہ رینگتی۔

ایک دن اس کے ابو نے سختی سے کہا: "بس بہت ہوگیا! اب ہم چند دن کے لیے گاؤں جا رہے ہیں"۔ اذان کا منہ ایسے لٹک گیا جیسے "بارش میں بھیگا ہوا کوا"۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ گاؤں جا کر وہ کیا کرے گا، وہاں نہ وائی فائی ہوگا نہ دوست۔

اگلے دن وہ لوگ گاؤں پہنچے۔ گاؤں کا منظر اذان کے لیے بالکل نیا تھا۔ دور دور تک سبز کھیت ایسے پھیلے تھے جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ رکھی ہو، درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے، ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی اور آسمان صاف تھا جیسے دُھو کر رکھا گیا ہو۔

لیکن اذان کو یہ سب اچھا نہیں لگ رہا........

© Daily Urdu (Blogs)