Pakistani Adalaton Ka Nizam e Istehsal

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

پاکستان میں عدالت کو انصاف کا آخری دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دروازہ عام آدمی کے لیے اذیت گاہ بن چکا ہے۔ ایک مظلوم سائل جب عدالت کے دروازے پر پہنچتا ہے تو وہ انصاف کی اُمید لے کر آتا ہے لیکن برسوں کی پیشیاں اس کی اُمیدوں کو چاٹ جاتی ہیں۔ عدالتوں کی راہداریوں میں سفید رِیش بوڑھے انصاف کے انتظار میں مر جاتے ہیں۔ عورتیں بچوں کو اُٹھائے تاریخ پر تاریخ بھگتتی رہتی ہیں۔ مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتا ہے۔ کسان زمین کے مقدمے میں نسلوں تک الجھا رہتا ہے۔ دوسری طرف طاقتور طبقہ وکیلوں کی فوج اور وسائل کے توسط سے نظام کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف کم اور استحصالی طریقہ کار زیادہ طاقتور ہے۔ عدالت میں آنے والا شخص سب سے پہلے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ پولیس کی دھمکیاں الگ، وکیلوں کی فیس الگ اور عدالتی عملے کا رویہ الگ۔ کیس فائنل ہونے کے بعد تاریخوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ سائلین عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مقدمے کی لاگت اصل تنازعے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

مشہور مقولہ ہے: "انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے"۔

یہ قول برطانوی سیاست دان ولیم گلیڈ اسٹون سے منسوب کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں یہ جملہ روزانہ حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں لاکھوں مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق دیوانی و سِول عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بعض مقدمات سپریم کورٹ تک پہنچتے پہنچتے پچیس سال تک کھنچ جاتے ہیں۔

ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دُنیا کی نچلے درجوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس انڈیکس میں........

© Daily Urdu (Blogs)